انوارالعلوم (جلد 26) — Page 188
انوار العلوم جلد 26 188 یوم مصلح موعود پر جماعت احمد یہ کراچی۔ در حقیقت ان میں اخفاء حقیقت ہوتا اسی طرح انہوں نے اپنے اخبار کا نام ”پیغام صلح “ رکھا مگر در حقیقت وہ پیغام جنگ تھا ۔ یہ لڑائی 1908 ء سے شروع ہو کر 1914 ء تک جاری رہی ۔ 1914ء میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی اور جماعت کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں آئی تو چاروں طرف سے یہ آوازیں آنی شروع ہو گئیں کہ ایک بچہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے ، اب یہ جماعت تباہ ہو جائے گی۔ مگر واقعات نے بتا دیا کہ گو ایک بچہ کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور آئی مگر ہو نہار پر وا کے چکنے چکنے پات‘ اس بچہ کے خلیفہ بنتے ہی دوسرے سال دنیا کے تمام غیر ملکوں میں تبلیغی مشن جانے شروع ہوئے دنیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ پیشگوئی پوری ہونے لگی کہ میں اس لڑ کے کے ذریعہ دنیا کے کناروں تک تیرا نام پہنچاؤں گا ۔ چنانچہ پہلامشن سیلون گیا ۔ پھر ماریشس بھیجا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انڈونیشیا میں ہمارا مشن قائم ہوا ۔ پھر افریقہ میں مشن بھیجا گیا ۔ اس کے بعد یورپ اور امریکہ میں ہمارے تبلیغی مشن قائم ہوئے ۔ چنانچہ اس وقت ہمارے دوسو کے قریب مبلغ غیر ممالک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کر رہے ہیں مگر جب جماعت مطمئن ہوگئی کہ ہماری بنیادیں مضبوط ہو گئی ہیں تو پھر خدا نے ایک اور فتنہ پیدا کر کے بتا دیا کہ میری مدد سے ہی سب کچھ ہوا تھا اور آئندہ ئندہ بھی جو کچھ ہوگا میری مدد - مدد سے ہی ہوگا ۔ چنانچہ وہی انچہ وہی شخص جس کی خلافت کے استحکام کے لئے میں نے اپنی بلوغت اور جوانی کا زمانہ خرچ کیا تھا اُسی کے بیٹے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب پھل پک گیا ہے ہم اس پھل کو کھا ئیں گے ۔ مگر جو پھل خدا تعالیٰ کے باغ کا ہو وہ وہی کھا سکتا ہے جس کو وہ خود کھلانا چاہے ۔ کوئی دوسرا شخص اسے نہیں کھا سکتا کیونکہ وہ خدا کی چیز ہے اور وہی حق رکھتا ہے کہ وہ جس کو چاہے دے ۔ وہ جس کوا۔ کو اپنے باغ کا پھل دے دیتا ہے دنیا کا کوئی شخص اُس سے وہ پھل چھین نہیں سکتا ۔ اور جس کو و پھل نہیں دینا چاہتا دنیا کا کوئی شخص اس پھل کو حاصل نہیں کر سکتا ۔ ووه میں نے بتایا ہے کہ میری خلافت کے ابتدا سے ہی بیرونی ملکوں میں تبلیغی مشن جانے شروع ہو گئے تھے لیکن ان لوگوں کی مخالفت پر ایک سال گزر گیا ہے یہ غیر ملک چھوڑ ایک