انوارالعلوم (جلد 26) — Page 172
انوار العلوم جلد 26 172 سیر روحانی (10) دن گزرنے کے بعد وفات پا گیا ۔ 28 تعجب ہے کہ یہ تاریخ شیعوں کی لکھی ہوئی ہے مگر باوجود اس کے افسوس ہے کہ شیعہ اصحاب نے اُس مُردار جھاڑی یعنی یزید کو تو یاد رکھا جو یزید بن معاویہ کہلاتی ہے مگر محمد رسول اللہ کے اُس خوشنما پودے کو یاد نہ رکھا جو معاویہ بن یزید کہلاتا ہے ۔ حالانکہ لوگ اپنے باپ کے باغ کی تعریفیں کیا کرتے ہیں مگر اس میں جو اتفاقاً ایک بُرا پودا یزید کا نکل آیا تھا اُس کو تو شیعہ یاد رکھتے ہیں مگر یزید کے گھر میں جو بیٹا معاویہ پیدا ہوا اور جس نے اتنے فخر سے اور علی الاعلان کہا کہ حسن و حسین میرے باپ سے بھی اچھے تھے اور میرے دادا سے بھی اچھے تھے اور علی میرے دادا سے اچھے تھے اور وہ خلافت کے زیادہ مستحق تھے اُس بیچارے کا نام بھی کوئی نہیں لیتا ۔ حالانکہ چاہئے تھا کہ محرم کے موقع پر بجائے یزید کے معاویہ کا ذکر کیا جاتا کیونکہ یزید کے ذریعہ سے تو صرف اتنا ہی پتا لگتا ہے کہ ایک گندی جھاڑی محمد رسول اللہ کے باغ میں تھی مگر معاویہ بن یزید کے ذریعہ سے یہ پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے باغ میں ایک گندی جھاڑی نکلی تھی مگر اس کے بیجوں سے پھر خدا نے ایک شاندار درخت پیدا کر دیا۔ بے شک ایسی مثالیں شاذ و نادر ہوتی ہیں مگر پھر بھی محمد محمدی باغات کے نمونے بے رسول اللہ کے باغ میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد عمر بن عبدالعزیز بھی ایک ایسا ہی پودا آپ کے باغ میں پیدا ہوا اور پھر مادی باغوں سے علیحدہ ہو کر روحانی باغوں نے اپنی نشو و نما شروع کر دی۔ محمدی باغوں میں ایک پودا نا کردی حسن بصری کا لگا ، ایک جنید بغدادی کا لگا، ایک سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ کالگا، ایک محی الدین صاحب ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک بہاؤ الدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک معین الدین صاحب چشتی رحمۃ اللہ کا لگا، ایک سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک قطب الدین صاحب بختیار کا کی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک فرید الدین صاحب شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک نظام الدین صاحب اولیاء