انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 158

انوار العلوم جلد 26 158 سیر روحانی (10) زمین اور آسمان کا جوڑا بیٹھی یاد رکھنا چاہئے کہ آیت میں زمین کا تو ذکر کیا گیا ہے مگر آسمان کا نہیں ۔ یہ تو کہا ہے کہ ہم نے زمین کو پھیلا یا ہے مگر آسمان جو زمین کا جوڑا ہے اُس کا ذکر چھوڑ دیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ دو متقابل چیزوں میں سے ایک کا ذکر کر دیا جائے تو دوسری کو چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ ہر عقل اس کا آپ ہی قیاس کر لیتی ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ اگر دو متقابل چیزیں ہوں اور ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو عقل انسانی اُس کو آپ ہی نکال لیتی ہے ۔ یہ قاعدہ میں اپنے پاس سے بیان نہیں کر رہا بلکہ لغت کے امام ثعالبی نے اپنی کتاب فقه اللغة میں اسے بیان کیا ہے ۔ ثعالبی وہ شخص ہیں جو ابنِ جتی 12 کے شاگرد تھے اور ابن جتنی اِمَامُ اللُّغة سمجھے جاتے تھے ۔ وہ زبان کے بہت بڑے ماہر تھے۔ اُن کی کتاب ایسی بے نظیر ہے کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی ۔ اس کتاب میں انہوں نے اشتقاق وغیرہ پر بحث کی ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متن الرحمن لکھی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عربی زبان اُم الأَلْسِنَہ ہے ۔ گو انہوں نے اس کا اپنی کتاب میں ایک ناقص نقشہ کھینچا ہے مگر بہر حال کچھ نہ کچھ نقشہ تو کھینچا ہے۔ پس اس جگہ پر زمین و آسمان کو جوڑا بتایا گیا ہے اور پھلوں کو بھی جوڑا جوڑا بتایا گیا ہے۔ پھلوں کے جوڑے میں صرف دنیاوی جوڑوں کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اِس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ روحانی سلسلوں میں جو پھل پیدا ہوتے ہیں یعنی نبی کی روحانی اولاد چلتی ہے وہ بھی جوڑا جوڑا ہوتی ہے ۔ وش قرآنی باغات بھی سب جوڑا جوڑا ہیں اب میں اپنے اصل مضمون یعنی باغات کو لیتا ہوں۔ جتنے باغات میں نے اپنے سفر حیدر آباد میں دیکھے تھے وہ سب ایک ایک تھے مگر قرآن کریم نے جن باغات کو پیش کیا ہے وہ جوڑا ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں جنت کا ایک نام نہیں بلکہ چار نام آئے ہیں۔ جَنَّتِ عَدْنٍ 18 ، جَنَّتُ الْمَأْوَى 14 ، جَنَّتِ النَّعِيمِ 15 اور جَنَّتُ الْفِرْدَوْسِ 16 ۔ گویا جنتوں کو صرف جوڑا ہی نہیں بتایا بلکہ دو جوڑے (یعنی چار ) بتایا ہے ۔ اور اس