انوارالعلوم (جلد 26) — Page 141
انوار العلوم جلد 26 141 سیر روحانی (10) ۔ وہ رنگ میں لکھی ہو لکھی ہوئی کتاب ہے۔ وہ شخص اسلام کا دشن نہیں ہے۔ اس لئےجو میری جو بیتی کہ اس کا تحقیقی جواب بھی دیا جائے اور پھر الزامی جواب بھی دیا جائے ۔ عیسائیوں کو بھی اور ہندوؤں کو بھی ۔ ان کی رائے یہ ہے کہ نرمی کے ساتھ تحقیقی جواب دیا جائے لیکن الزامی جواب نہ دیا جائے ۔ کیونکہ لکھنے والے کے دل کی بد نیتی کوئی نہ تھی۔ اور چونکہ ہندوستان میں بھی دوستوں نے کہا ہے کہ اردو کی ضرورت نہیں انگریزی کی ہے اس لئے ایک ہی کتاب کافی ہو جائے گی جس میں تحقیقی جواب ہوں گے۔ تحقیقی جواب جیسے عیسائیوں کے لئے کافی ہوتے ہیں اُسی طرح ہندوؤں کے لئے ، اُسی طرح زرتشتیوں کے لئے اور اُسی طرح یہودیوں کے لئے بھی کافی ہوتے ہیں۔ پس تحقیقی جواب کے ساتھ وہ کتاب شائع ہوگی اور مجھے اطلاع آ چکی ہے کہ وہ لکھی جا چکی ہے ۔ مگر خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہے جو ایک بڑھے ایرانی کے ساتھ ہوا تھا۔ ایک بڑھا ایرانی ایک دفعہ ایک درخت لگا رہا تھا ساٹھ سال میں کہیں جائے وہ پھل دیتا تھا۔ بادشاہ وہاں سے گزرا۔ بادشاہ نے اس کو درخت لگاتے جو دیکھا تو کہا اس بڑھے کو بلاؤ۔ جب وہ بڑھا پاس آیا تو کہا میاں بڑھے ! تم یہ درخت لگا رہے ہو پتا ہے یہ ساٹھ سال کے بعد پھل دیتا ہے تم تو اُس وقت تک مرجاؤ گے تمہیں اس درخت کے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ بھی عجیب ہیں میرے باپ دادا بھی اگر یہی سوچتے تو میں کہاں سے پھل کھاتا ۔ میرے باپ دادوں نے درخت لگایا تو میں نے پھل کھایا میں لگاؤں گا تو میرے پوتے پڑپوتے کھائیں گے۔ بادشاہ کو بات پسند آ گئی اس نے کہا زہ! بادشاہ نے وزیر خزانہ کو حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی بات نے وزیرخزانہ حکم دیا ہوا تھا کہ پر زہ کہوں تو فوراً تین ہزار اشرفی کی تھیلی اس کے آگے رکھ دیا کرو۔ بادشاہ نے کہازہ ۔ وزیر نے فوراً تین ہزار کی تھیلی اس کے آگے رکھ دی ۔ جب اس کے آگے تین ہزار اشرفی کی تھیلی رکھی گئی تو اُس نے کہا بادشاہ سلامت! اب بتائیے آپ تو کہتے تھے کہ تو ساٹھ سال کے بعد کہاں پھل کھائے گا چھوٹے چھوٹے درخت ہوں تو وہ بھی اگر جلدی پھل دینے والے ہوں تو کم سے کم چار پانچ سال کے بعد پھل دیتے ہیں مگر مجھے تو