انوارالعلوم (جلد 26) — Page 128
انوار العلوم جلد 26 128 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ دیں گے بلکہ سب بھاگ جائیں گے کیونکہ خدا کے غضب کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہے چنانچہ جلسہ سالانہ کے بعد ”نوائے پاکستان 17 جنوری 1957ء میں ان کے ایک ہمدرد نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو مجھے خبر دی تھی وہ بڑی شان سے پوری ہو گئی ہے۔ ہے:۔ اس مضمون میں جو " حقیقت پسند پارٹی سے چند گزارشات" کے زیر عنوان شائع ہوا ہے لکھا (الف) حزب مخالف نے اگر چہ حقیقت پسند پارٹی کے نام سے اپنی جماعت الگ بنانے کا اعلان کر دیا ہے مگر ہیں وہ بڑے پریشان کیونکہ قادیانی خلافت نے تو منافق ، غدار ملحد اور دونوں جہان میں خائب و خاسر کا الزام دے کر اپنے سے ان کو عضو فاسد کی طرح کاٹ دیا ہے ۔“ ( ب ) لاہوری حضرات ان کو دوسرے قادیانیوں کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔ ان میں باہمی عقیدہ و خیال کا کوئی فرق نہیں ہے صرف تھوڑا سا خلافتی اختلاف ہے۔ اس بناء پر وہ ان کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیتے ۔“ 66 (ج) مرزائیت کی حالت میں مسلمانوں کا اُن سے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ اسلام کے ایک بنیادی واساسی عقیدہ کے منکر ہیں۔ مسلمان کافر کی ذمی ہونے کی حیثیت سے حفاظت و صیانت تو کر سکتا ہے مگر کا کی ہونے سے تو و مرتد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلکہ مرتد کی سزا اسلام میں نہایت سنگین ہے اس اعتبار سے یہ معاشرہ سے بالکل کٹ چکے ہیں ۔“ (1) ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ 62 کا سا اِن کا حال ہے۔ سرزمین پاکستان باوجود اپنی وسعت و فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی ہے۔ کیا وہ ملک بدر ہو جائیں؟ آخر جائیں تو کہاں جائیں ۔ فرض کر لیجئے کہ ان میں سے ایک آدمی کسی مکان پر صرف اکیلا ہی رہتا ہے، زندگی میں ہزاروں حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اگر وہ بھی کسی حادثہ کا