انوارالعلوم (جلد 26) — Page 126
انوار العلوم جلد 26 126 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ۔۔ سے یہ عہد لینا کہ " میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا " اسی وجہ سے تھا۔ مگر افسوس کہ باوجود حضرت خلیفہ اول کے ہوشیار کر دینے کے ان کی اولاد اس فتنہ میں پھنس گئی ۔ حالانکہ حضرت خلیفہ اول کی شہادت کو خود عبدالمنان نے 1945ء کے رسالہ فرقان میں شائع کیا تھا۔ اور پھر یہ شہادت الفضل 11 دسمبر 1956ء میں بھی چھپ چکی ہے اور اس کے متعلق جلسہ سالانہ پر ایک ٹریکٹ بھی شائع ہوا ہے۔ دوست اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ اس میں انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا ایک نوٹ شائع کیا ہے جو دسمبر 1912ء کا لکھا ہوا ہے کہ مصلح موعود تمیں سال کے بعد ظاہر ہوگا ۔ چنانچہ 1944ء میں خدا تعالیٰ نے مجھے رویا دکھائی کہ تم مصلح موعود ہو۔ اس مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ:۔ "فرقان کے پچھلے شمارہ میں میں نے بڑے دردمند دل کے ساتھ ابتدائی چند صفحات قلمبند کئے تھے اور میں حد درجہ اس کا آرزومند تھا کہ کسی طرح ہمارے یہ بچھڑے ہوئے بھائی پھر ہم میں آملیں۔ اور اپنی طاقتوں کو باہمی آویزش میں ضائع نہ کریں بلکہ آپس میں مل کر متحدہ رنگ میں اکناف عالم میں اسلام کو پھیلانے اور پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کیلئے خرچ کر سکیں کہ یہی اس دور میں ہمارا اولین فرض اور ہماری زندگیوں کا بہترین مقصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی دردمندانہ جذبہ کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس احسان سے نوازا کہ میں آج اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کے سامنے اس آواز کی تائید میں جو گزشتہ پرچہ میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے دامن سے اپنے دامن کو وابستہ کر لینے کے متعلق بلند کی گئی تھی ۔ حضرت علامہ حاجی الحرمین سیدنا نورالدین صدیق ثانی کی ایک زبردست شہادت کو پیش کر سکوں ۔“ 66 وہ پیغامیوں کو تو 1945ء میں کہتا ہے کہ بچھڑے ہوئے بھائی مل جاؤ اور اپنے آپ کو کہتا ہے کہ بھاگ جاؤ مبائعین کے پاس سے چلے جاؤ ابلیس کی گود میں اور جماعت احمدیہ کے اتحاد کو چاک چاک کر دو۔ پھر آگے لکھتا ہے :۔