انوارالعلوم (جلد 26) — Page 124
انوار العلوم جلد 26 124 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ۔۔ جس سے معلوم ہوا کہ اُن پر کچھ اثر ہوا ہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں نے مولوی عبدالسلام صاحب عمر سے عبدالواسع کے متعلق کہا کہ میں نے ایسی بات سنی ہے اور مجھے افسوس ہوا ہے۔ تو مولوی صاحب نے کہا کہ نئی روشنی کا اثر نو جوانوں میں ہو گیا ہے۔“ 66 ایک اور احمدی دوست عبدالرحیم صاحب کی شہادت ہے کہ مولوی عبدالسلام صاحب نے جواب میں کہا کہ وہ ابھی بچہ ہے حالانکہ اُس وقت وہ ایم اے کر چکا تھا۔ اسی طرح امة الرحمن بنت مولوی شیر علی صاحب زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر کا خط کسی نے بھیجا ہے جو مولوی عبدالسلام کے لڑکے واسع کے نام ہے۔ اس خط کو کسی نے پکڑ کر بھیج دیا۔ وہ ہمارے پاس موجود ہے۔اس میں اس نے لکھا ہے کہ:۔ ” میری رائے میں تو آپ لوگوں کا جلد ہی آ جانا بہتر تھا لیکن دیکھئے آپ کے چا کی کیا رائے ہے۔“ 66 یعنی میری رائے تو یہ ہے کہ جلدی سے ربوہ آجاؤ مگر منان ابھی امریکہ میں ہے وہ آجائے تو پتا لگے گا کہ اس کی کیا رائے ہے۔ پھر لکھا ہے :- لوگ یکے بعد دیگرے آپ لوگوں کے ماحول میں آویں گے۔“ یعنی ربوہ آجائیں۔ ساری جماعت ٹوٹ کر آپ کے گرد جمع ہو جائے گی۔ کر کے گرد: پھر لکھا ہے:۔ 66 کہا کچھ جاتا ہے بتایا کچھ جاتا ہے۔ خطبوں کو اگر حسب سابق منشی ہی دیا کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ کشتی نوح سے زیادہ اہم ان کے خطبے ہیں ۔“ حاشیہ: کوئی شخص یہ شبہ نہ کرے کہ اماں جی اور مولوی عبد السلام صاحب تو وفات پا کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکے ہیں پھر ان کی مغفرت کس طرح ہوگئی۔ بخشش خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہ جس کو چاہے معاف کر سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو بعض اور نیکیوں کی وجہ ا بعض وجہ سے انکے بعض مخالفانہ افعال سے تو بہ کرنے کی توفیق بخش کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا موقع عطا فرمادیا اور اس طرح اپنے فضل سے اس نے انہیں اپنی مغفرت کے دامن میں لے لیا۔