انوارالعلوم (جلد 26) — Page 98
انوار العلوم جلد 26 98 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ ہو گیا ) مگر جلسہ سالانہ سے پہلے کسی اچھی جگہ پر لگا دیں اب اللہ رکھا کا تازہ خط پکڑے جانے پر اس خاندان نے شور مچایا ہے کہ اللہ رکھا کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ وہ خط تو اماں جی کی وفات پر محض ہمدردی کے خط کے جواب میں تھا۔ حالانکہ یہ خط بتاتا ہے کہ اللہ رکھا سے پرانے تعلقات چل رہے تھے۔ بلکہ قادیان سے ایک درویش نے جو کہ لنگر خانہ کا افسر تھا لکھا ہے کہ میں لنگر خانہ کے سٹور میں سویا ہوا تھا کہ رات کو میں نے دیکھا کہ اللہ رکھا آیا ، اس کی آنکھیں کمزور ہیں اور اسے اندھراتا کی شکایت ہے جس کی وجہ سے اسے رات کو ٹھیک طور پر نظر نہیں آتا۔ اس نے آ کر ادھر اُدھر دیکھا مگر اندھیرے کی وجہ سے مجھے دیکھ نہ سکا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے سامان اٹھا کر بازار میں بیچنے کے لئے لے گیا۔ میں نے اس کو راستہ میں پکڑ لیا۔ پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے اور اس کو ملامت کی۔ جب تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ سامان بیچ کر میاں عبدالوہاب کی ایجنٹی کرتا ہے اور ان کو روپیہ لا کر دیتا ہے واللہ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ چونکہ راوی ایک ہی ہے اس لئے ہم اس کی شہادت کی قطعی طور پر تصدیق نہیں کر سکتے جب تک کہ کئی راوی نہ مل جائیں ۔ وو اسی طرح اللہ رکھا کا ایک خط مولوی عبدالمنان کے نام ملا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔ ” جناب مولوی اسماعیل کے ساتھ جس آدمی کے متعلق آپ کے سامنے ذکر فرمایا تھا (اپنے آپ کو فرمایا لکھتا ہے ) اس کو جناب مولوی (صاحب) سے ملا دیا۔ بعد میں کوشش کی کہ آپ کی بھی ملاقات ہووے مگر بعد میں کوشش کی کہ آپ کی بھی ملاقات ہوو حب سے ملا دیا۔ بعد ملاقات ہو دے آپ کو موقع نہ ملا۔ اگر موقع ملتا تو آپ ضرور اس کے خیال کا پتا کرتے اور جو مال اس کے پاس تھا دیکھتے۔ اگر اس قابل ہوتا کہ موجودہ وقت کے مطابق شائع کرنا مناسب حال ہوتا تو آپ بات کر لیتے ۔“ گویا اُس وقت بھی بقول اللہ رکھا ہمارے خلاف ٹریکٹ لکھوائے جارہے تھے اور مولوی عبدالمنان مولوی اسماعیل صاحب غزنوی سے مل کر مشورے کرتا تھا۔ اس خط سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ اللہ رکھا مولوی اسماعیل غزنوی اور مولوی عبدالمنان میں سالہا سال سے ایک سازش