انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 49

انوار العلوم جلد 26 49 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ۔۔ پھر قرآن شریف کے ترجمہ کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اُردو کا ترجمہ تیار ہو گیا ہے۔ اور ایک جلد تفسیر کی بھی تیار ہوگئی ہے جس کا پانچ سو صفحہ إِنْشَاءَ الله شوری تک چھپ جائے گا۔ تفسیر لمبی ہو گئی ہے میں نے چھوٹی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن غالبا سورة طه يا سورۃ الانبياء تک پانچ سو صفحے پورے ہو جائیں گے۔ الشركة الاسلامیہ والے کہتے ہیں کہ ہم نے کتا بیں چھاپی ہیں ۔ ضرورت الامام ، را از حقیقت، نشان آسمانی، آسمانی فیصلہ، کشف الغطاء، دافع البلاء، ستارہ قیصریہ۔ اس کی سفارش کر و حالانکہ میں تو اس کو بے شرمی سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لکھی ہوئی کتاب ہو اور میں سفار سفارش کروں۔ کیا کسی غلام کے منہ سے یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے آقا کی کتاب کی سفارش کرے؟ اور کرے بھی اُن کے پاس جو اپنے آپ کو فدائی کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے کہ جس شخص نے میری کتابیں کم سے کم تین دفعہ نہیں پڑھیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ احمدی ہے 18 ۔ تو اب ہماری جماعت تو دس لاکھ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ پس تین دفعہ اگر وہ کتابیں پڑھیں بلکہ ایک ایک کتاب بھی خریدیں اور تین سال وہی پڑھ لیں تو پھر آگے اولاد بھی ہوتی ہے تب بھی دس لاکھ کتاب لگ جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے جن کتابوں کی لسٹ مجھے دی ہے وہ ساری کی ساری شاید کوئی ہمیں ہزار ہیں تو ایسی کتابوں کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لکھی ہوئی ہیں جن کی صدیوں تک اور نظیر نہیں ملے گی یہ کہنا کہ میں سفارش کروں یہ ان کی اپنی کمزوری ہے۔ کیوں نہیں وہ جماعت کو کہتے ؟ جماعت تو اپنی جانیں حضرت صاحب پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے مگر صحیح طور پر کام نہیں کیا جاتا ۔ یا مین صاحب تو اپنا کیلنڈر بیچ لیتے ہیں مگر ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں بھی نہیں بیچی جاتیں۔ تارے اسی طرح ریسرچ والوں نے کہا ہے کہ ان کی مصنوعات کے متعلق یاد دہانی کرائی جائے۔ لوگوں کو چاہیے کہ جو جماعت کی طرف سے چیزیں بنتی ہیں اُن کو زیادہ لیا کریں ۔ اخلاص تو یہ ہوتا ہے کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے والد صاحب نے مجھے سنایا کہ میں سارا سال اپنے کپڑوں کے متعلق کوشش کرتا رہتا ہوں کہ نہ بنواؤں اور جب قادیان آتا ہوں تو سید احمد نور کی