انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 36

انوار العلوم جلد 25 36 سیر روحانی (8) اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ڈائریوں میں کس طرح غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔ لیکن قرآنی دفتر کے ڈائری نویس کسی سے سن کر ڈائری نہیں لکھتے بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُس کی حقیقت سے آپ واقف ہو کر لکھتے ہیں۔ ڈائری نویسوں کی دھوکا دہی پھر ڈائری نویسوں میں سے بعض ایجنٹ )AGENT PROVOCATEUR( پروو کیٹیئر ہوتے ہیں یعنی اُن کو خدمت کا اور اپنی حکومت میں مشہور ہونے کا اور صلہ پانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں تا کہ اگلے کے منہ سے کچھ نکل جائے اور کار اور وہ اسے بالا افسروں تک پہنچا سکیں۔ مثلاً مجلس لگی ہوئی ہے اور لوگ بالکل نا تجربہ کارا سیدھے سادے بیٹھے ہیں۔ ایک آدمی نے درمیان میں جان بوجھ کر بات شروع کر دی کہ گور نمنٹ بڑے ظلم کر رہی ہے۔ اب ایک ناواقف شخص نے بھی کسی پر سختی کا ذکر عنا ہوا تھا تو اُس نے بھی کہہ دیا کہ ہاں جی میں نے بھی فلاں واقعہ سنا ہے۔ اُس نے جھٹ ڈائری لکھ لی کہ فلاں شخص کہہ رہا تھا کہ گورنمنٹ بڑا ظلم کر رہی ہے حالانکہ اس کا محرک وہ آپ بنا تھا۔ ایسے لوگوں کو انگریزی میں ایجنٹ پروو کیٹیئر ( AGENT PROVOCATEUR) کہتے ہیں۔ یعنی دوسروں کو اُکسا کر وہ ان کے منہ سے ایسی باتیں نکلوا دیتے ہیں جو قابل گرفت ہوتی ہیں۔ جب میرٹھ کیس ہوا جس میں وائسرائے کے مارنے کی تجویز کی گئی تھی تو اس میں ایک پولیس افسر نے سارا کیس بنایا کہ فلاں کانگرسی کی سازش تھی، فلاں کا نگرسی کی سازش تھی لیکن اتفاقاً جب ساری مسل بالکل تیار ہو گئی تو کسی اور مجرم میں ایک آدمی پکڑا گیا اور اُس نے اقرار کر لیا۔ اُس وقت پتہ لگا کہ وہ سارے ہی اور لوگ تھے اور یہ سب کی سب جھوٹی کہانی بنائی گئی تھی۔ تب جا کر یہ حقیقت کھلی اور پھر اُس شخص کو سزا بھی ملی۔ سفر حج کا ایک واقعہ میں جب 1912ء میں حج کے لئے گیا تو وہاں بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ میرے ساتھ پانچ آدمی اور بھی ہم سفر تھے۔ ان میں سے تین بڑی عمر کے تھے اور وہ تینوں ہی بیرسٹری کر رہے تھے۔