انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 476

انوار العلوم جلد 25 476 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات رومن کیتھولک اس قدر مضبوط ہو گئے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے پڑھا کہ ان کے 54 لاکھ مبلغ ہیں۔ ان سے اپنا مقابلہ کرو اور خیال کرو کہ تم سو ڈیڑھ سو مبلغوں کے اخراجات پر ہی گھبرانے لگ جاتے ہو۔ اگر تم ان سے تین چار گنے زیادہ طاقت ور بننا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ تمہارا دو کروڑ مبلغ ہو۔ لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہمارے سب مبلغ ملالئے جائیں تو ان کی تعداد دو سو کے قریب بنتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عیسائیوں کو مسلمان کر لیں، بدھوں کو مسلمان کر لیں، شنٹو ازم والوں کو مسلمان کر لیں، کنفیوشس ازم کے پیروؤں کو مسلمان کر لیں تو اس کے لئے دو کروڑ مبلغوں کی ضرورت ہے۔ اور ان مبلغوں کو پیدا کرنا اور پھر ان سے کام لینا بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ملک میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ جب مرنے لگا تو اس نے اپنے تمام بیٹوں کو بلایا اور انہیں کہا ایک جھاڑو لاؤ۔ وہ ایک جھاڑولے آئے۔ اس نے اس کا ایک ایک تنکا انہیں دیا اور کہا اسے توڑو اور انہوں نے اسے فوراً توڑ دیا۔ پھر اس نے سارا جھاڑو انہیں دیا کہ اب اسے توڑو۔ انہوں نے باری باری پورا ضرور لگایا مگر وہ جھاڑو ان سے نہ ٹوٹا۔ اس پر اُس نے کہا میرے بیٹو! دیکھو میں نے تمہیں ایک ایک تنکا دیا تو تم نے اسے بڑی آسانی سے توڑ دیا لیکن جب سارا جھاڑو تمہیں دیا تو باوجود اس کے تم نے پورا زور لگایا وہ تم سے نہ ٹوٹا۔ اسی طرح اگر تم میرے مرنے کے بعد بکھر گئے تو ہر شخص تمہیں تباہ کر سکے گا۔ لیکن اگر تم متحد ر ہے تو تم ایک مضبوط سوٹے کی طرح بن جاؤ گے۔ جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکے گی ۔ اسی طرح اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا تو تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور تمہیں دشمن کھا جائے گا۔ لیکن اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔ تم دیکھ لو ہماری جماعت کتنی غریب ہے لیکن خلافت کی وجہ سے اسے بڑی حیثیت حاصل ہے اور اس نے وہ کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلمان نہیں کر سکے۔ مصر کا ایک اخبار الفتح ہے جو سلسلہ کا شدید مخالف ہے اس میں ایک دفعہ کسی نے مضمون لکھا کہ گزشتہ 1300 سال میں مسلمانوں میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر انہوں