انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 278

انوار العلوم جلد 25 278 سیر روحانی نمبر (9) کہ وہ کیا خرچ کریں؟ حالانکہ خود حکم دیتا ہے کہ خرچ کرو۔ مگر فرماتا ہے تم وہ خرچ کرو جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ جس کی تمہیں گل کو ضرورت پیش آنی ہے اُسے خرچ نہ کرو۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے وصیت کرنی چاہی اور کہا کہ میں اپنا سارا مال غریبوں کو دیتا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارا مال غریبوں کو دے دینا اچھا نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تیرے بچے تیرے بعد لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ کچھ ان کے لئے بھی رکھو اور کچھ اپنے وارثوں کے لئے بھی رکھو تا کہ وہ بھی عزت سے گزارہ کریں۔ 52 علم شہریت کی شہر پھر علم شہریت کی طرف بھی قرآن کریم میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بُرَكْنَا فِيهَا قُرَى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ - 53 یعنی ہم نے قوم سبا کی بستیوں اور بنی اسرائیل کی بستیوں کے درمیان بڑے بڑے شہر بسائے تھے جس کی وجہ سے لوگ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر آبادیوں میں چلے جاتے تھے اور انہیں کھانا پینا مل جاتا تھا۔ گویا بتایا کہ مدنیت یعنی شہر بسانا ملک کی ترقی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ اس سے ملک کے لوگوں کے باہمی تعلقات بڑے آسان ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں صرف گاؤں ہوں تو ان کے تعلقات وسیع نہیں ہوتے اور انکی تعلیم اور تجارت وغیرہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ علم تاریخ کی شہر پھر علم تاریخ کی طرف بھی قرآن کریم توجہ دلاتا ہے۔ فرماتا ہے ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَ حَصِيدٌ - 54 یعنی ہم نے اس قرآن میں تیرے پاس پچھلی قوموں کے جو حالات بیان کئے ہیں اُن میں سے بعض کے نشانات اب تک موجود ہیں اور بعض کے نشانات بالکل مٹ چکے ہیں۔ علمائے تاریخ نے لکھا ہے کہ تاریخیں دو قسم کی ہیں ۔ ایک تاریخ ہسٹارک (HISTORIC) کہلاتی ہے اور ایک پری ہسٹارک (PRE-HISTORIC) یعنی زمانہ تاریخ سے قبل کے حالات۔ یہی بات قرآن کریم نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے