انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 274

انوار العلوم جلد 25 274 سیر روحانی نمبر (9) غرض علم نباتات کی طرف بھی قرآن نے توجہ دلائی ہے۔ علم توافق بین المخلوقات کی شہر اسی طرح علم توافق بین المخلوقات کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔ سدود یعنی مختلف مخلوقات کی مختلف ضرورتیں ہوتی ہیں فرماتا ہے وَالْأَرْضَ مَدَدْنَهَا وَ الْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَ اثْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ تَمُوزُون - 42 یعنی ہم نے زمین کو ؟ ہم نے زمین کو پھیلایا ہے اور اُس میں پہاڑ بنائے ہیں اور اس میں مختلف چیزیں اگائی ہیں جو ضرورت کے مطابق ہیں۔ یعنی انسان کی ضرورت بھی اُن سے پوری ہو جاتی ہے اور جانوروں کی ضرورت بھی اُن سے پوری ہو جاتی ہے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق لوگ کہا کرتے تھے کہ بے غرض پیدا ہو گئی ہیں ۔ اگر کوئی خدا ہوتا تو بے ضرورت چیزیں کیوں پیدا کرتا۔ لیکن اب تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض قسم کے کیڑے جو بعض وبائی کیڑوں کو مارتے ہیں وہ ان غذاؤں کو کھاتے ہیں۔ ہیں۔ تو كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ میں اللہ تعالیٰ نے اس اس امر امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اُس نے ہر ایسی چیز پیدا کر دی ہے جس کی کسی انسان یا جانور کو ضرورت ہے۔ اُن میں سے بعض کی ایسے خورد بینی کیڑوں کو ضرورت ہوتی ہے جو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتے۔ اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کو ہم لغو سمجھتے ہیں تو وہ کیڑے بھی پیدا نہ ہوتے۔ اور اگر وہ کیڑے نہ پیدا ہوتے تو وہ وبائیں بھی نہ جاتیں جو اُن کیڑوں کی وجہ سے دور ہوتی ہیں۔ علیم حیوانات کی نہر پھر علم حیوانات کی طرف بھی اس نے توجہ دلائی ہے۔ فرماتا ہے۔ وَ فِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبْثُ مِنْ دَابَّةٍ أَيْتُ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ 43 یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اور خدا خدا تعالیٰ نے : پھیلائے ہیں اُن میں بھی ایک یقین رکھنے والی قوم کے لئے بڑے نشان ہیں۔ نے جو اور جانور زمین میں پھر فرماتا ہے وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا خَيرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ - 44 یعنی یہ جو زمین میں چلتے پھرتے جانور تمہیں نظر آتے ہیں اور ہواؤں میں اُڑتے ہوئے پرندے دکھائی دیتے ہیں یہ بھی تمہاری طرح کے گروہ ہیں۔ اُمم سے یہ مراد نہیں کہ نبیوں کی امت ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اُن کے اندر بھی کوئی قانون جاری ہے۔ چنانچہ ایسے