انوارالعلوم (جلد 25) — Page 267
انوار العلوم جلد 25 267 سیر روحانی نمبر (9) علم بیان کی شہر اسی طرح قرآن کریم نے علم بیان کا بھی ذکر کیا ہے فرماتا ہے۔ وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَ هُدًى وَ رَحْمَةً وَ بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ 31 یعنی ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمام ضروری مطالب اور مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں۔ بیان کے معنے ہوتے ہیں ایک مطلب کو مختلف رنگوں میں بیان کرنا۔ اور قرآن کریم یہی فرماتا ہے کہ وَ كُلَّ شَيْءٍ فَضَّلْتُهُ تفصيلا - 32 یعنی ہم نے اس کتاب میں تمام باتوں کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے کہ ہر بات دل میں گڑ جاتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ جو دلیل چاہیے تھی وہ ٹھیک طور پر بیان کر دی گئی ہے۔ علم النفس کی شہر پھر قرآن کریم میں علم النفس کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ 33 کہ اگر تم اپنے دلی جذبات کو سمجھو تو تمہیں معلوم ہو کہ ان کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ علم النفس کے معنے ہوتے ہیں دلی جذبات کو سمجھنا۔ اور شعور بھی اُسی جذبہ کو کہتے ہیں جو اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ گویا قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اگر انسان اپنے دلی جذبات کو سمجھے تو پھر اُسے قرآن کا علم سمجھ میں آتا ہے۔ اور اس طرح بنی نوع انسان کو نصیحت کی ہے کہ اگر تم نے قرآنی باتوں کو سمجھنا ہو تو تمہیں اپنے دل کے جذبات پر غور کرنا چاہئے۔ تمہیں سمجھ آجائے گی کہ قرآن کریم کی تمام باتیں سچی ہیں۔ ورنہ اگر تم اپنے نفس پر غور نہیں کروگے تو قرآن بھی سمجھ نہیں آئے گا۔ علم کیمیا کی شہر پھر قرآن کریم میں علم کیمیا کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنُبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ علیم - 34 یعنی جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک دانہ ہو جس میں سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانہ ہو۔ اور خدا چاہے تو وہ اس سے بھی بڑھا دے۔ اس آیت میں اُن کیمیاوی تغیرات کی طرف