انوارالعلوم (جلد 25) — Page 263
انوار العلوم جلد 25 263 سیر روحانی نمبر (9) علم جہازرانی کی شہر پھر علم جہاز رانی کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَرَ - 22 یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشتیاں مسخر کی ہیں تا کہ وہ خدا کے حکم سے سمندروں میں چلیں۔ اسی طرح اُس نے نہریں مسخر کی ہیں۔ یعنی یہ بھی ایک علم ہے جو تمہارے لئے فائدہ بخش ہے۔ تم نہروں کے متعلق دیکھو کہ وہ کس طرح چکر کھاتے ہوئے گزرتی ہیں۔ اور پھر کوئی نہر کسی ایسے سمندر میں جا کر گرتی ہے جہاں سے منزلِ مقصود بہت دور ہو جاتی ہے اور کوئی ایسی جگہ سے گزرتی ہے جو منزل کے قریب ہوتی ہے۔ مثلاً یورپ میں بعض نہریں ایسی ہیں جو بحیرہ روم میں آکر گر جاتی ہیں اور بعض بحر شمالی میں جاگرتی ہیں۔ اگر کوئی بے وقوفی کرے تو اُس نے جہاں جانا ہے اُس سے ہزاروں میل پرے چلا جائیگا۔ پس فرماتا ہے اُس کی رفتار اور رُخ وغیرہ کو یاد رکھنا چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ نہر جاتی کدھر ہے۔ کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ وہ نہر تمہیں کہیں کا کہیں پہنچادے۔ اسی طرح سمندروں کو دیکھو کہ سمندر تمہارے کام آنے والی چیز ہیں لیکن اُن پر بھی ایک قانون حاوی ہے اور خاص ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ اگر ان ہواؤں کو مد نظر نہ رکھو گے تو وہی سمندر تمہارے لئے تباہی کا موجب ہو جائیں گے ۔ یا مثلاً اس کے اندر چٹانیں بھی ہیں اگر ان چٹانوں کو مدنظر نہ رکھو گے تو تمہارے جہاز تباہ ہو جائیں گے ۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَ مِنْ أَيْتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ إِنْ يَشَأْ يُسْكِنَ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ ۖ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ 23 یعنی سمندر میں ہم ہوائیں چلاتے ہیں۔ اگر وہ چلتی رہیں تو جہاز چلتے رہیں گے لیکن اگر ہوائیں ٹھہر جائیں تو پھر جہاز نہیں چل سکتے۔ تم کو یا د رکھنا چاہئے کہ اگر تم نے سمندروں میں کامیاب ہونا ہے تو تمہیں ہمیشہ یہ معلومات حاصل کرتے رہنا چاہئے کہ ہوائیں کس کس وقت چلتی ہیں اور کیسی کیسی رخ چلتی ہیں۔ اگر تم یہ علم ایجاد کر لو گے تو تمہارے جہاز ٹھیک چلیں گے اور اگر اس علم سے واقفیت پیدا نہیں کرو گے تو تمہارے جہاز یا تو تم کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچائیں گے یا دیر سے پہنچائیں گے۔