انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 235

انوار العلوم جلد 25 235 سیر روحانی نمبر (9) اور عور تیں بیعت کر لیتی ہیں۔ عورتوں کی بیعت آخر یہی ہوتی ہے۔ عورتوں نے ہاتھ میں ہاتھ تو دینا نہیں ہوتا بلکہ آج تو مردوں نے بھی پگڑیوں پر ہی بیعت کی ہے۔ ہاتھوں پر نہیں کی۔ تو موقع تو ان کو زیارت کا مل چکا ہے سوائے بعض عورتوں کے۔ یعنی بعض ایسی عورتیں ہیں جن کے متعلق مجھے شکایت پہنچی ہے کہ اُن کی نظر بہت کمزور تھی۔ مجھے بھی باوجود عینک کے وہ جگہ تک نظر نہیں آتی تھی جہاں عور تیں بیٹھی تھیں۔ تو جن کی نظر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو اُن کو تو واقعی میری شباہت نظر نہیں آسکتی۔ لیکن یہ تو مجبوری ہے مگر پھر بھی میں ان کو کہہ دیتا ہوں کہ ان کو موقع دینا میں ان کا حق سمجھتا ہوں۔ جس طرح مردوں کا حق سمجھتا ہوں۔ مردوں میں بھی میں نے تاکید کی تھی کہ چونکہ انہیں خواہش ہوتی ہے کہ میرا چہرہ دیکھیں اس لئے سائبان ذرا اونچا لگانا تا کہ لوگ شکل دیکھ سکیں۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اِتنی دور سے آکے محروم ر محروم رہ جائیں۔ سو عورتوں کے متعلق بھی میں پھر اپنی بیویوں وغیرہ کو ہدایت کرتا ہوں۔ اسی طرح دوسری منتظمات کو ہدایت کرتا ہوں کہ جو عورتیں رہ گئی ہیں بے شک اُن کو کہیں وہ وقت مقرر کرادیں گی۔ وہ ہمارے گھروں میں نیچے صحن میں بیٹھ جائیں گی میں اوپر برآمدہ میں کھڑے ہو کر ان کو سلام کروں گا اور دل میں ان کے لئے دعا کر دوں گا۔ اس طرح ان کی غرض پوری ہو جائے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ محروم رہیں۔ لیکن اس کا علاج یہی ہے کہ وہ بجائے مردوں کو کہنے کے مستورات سے کہیں۔ اور اب تو انہوں نے خود بھی سن لیا ہے وہ میرا حوالہ دے دیں کہ دیکھو جی انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے لئے انتظام کیا جائے۔ وہ نیچے صحن میں جا کر بیٹھ جائیں اوپر برآمدہ میں کھڑے ہو کر میں اُن کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ دوں گا۔ وہ وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہہ دیں گی۔ بیعت کرنے والی عورتوں نے بیعت بھی اس طرح کی ہے۔ پھر سلام خود ہی دعا ہے۔ مزید دعا کی ضرورت نہیں السّلَامُ عَلَيْكُمْ سے بڑی دعا اور کیا ہو گی۔ بہر حال اس طرح ان کی خواہش پوری ہو جائے گی۔ میں نے بتایا ہے کہ عورتوں کے جلسہ نے برابر ڈیڑھ دو بجے تک دم نہیں لینے دیا۔ تقریر پر تقریر ہوتی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ میں ہی