انوارالعلوم (جلد 25) — Page 220
انوار العلوم جلد 25 220 متفرق امور لاہور میں ہمارے ایک دوست ہیں انہوں نے سگریٹ دیا سلائی ایجاد کی ہے۔ یورپ میں اس کا بہت رواج ہے اور سگریٹ والے اسے عام طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ سگریٹ والوں میں اتنی سخاوت ہوتی ہے کہ کوئی دیا سلائی مانگے تو انکار نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈبیا پوری دینی پڑتی ہے اور یہ سستی چیز ہے۔ یہ دے دی تو کوئی حرج نہیں۔ دوسرے جیب میں کھڑ کھڑاتی نہیں۔ غرض انہوں نے بہت محنت کر کے وہ بنائی ہے۔ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مجھے بڑے بڑے آرڈر دیئے ہیں کہ ہم سے دس دس ہزار میں بیس ہزار پیشکی لے لو اور ہمارے لئے ریزرو رکھو۔ تو دوست تو دوستوں کو چاہئے کہ وہ یہاں کے مال خریدنے کی کوشش کریں۔ اور یہاں کے کارخانہ داروں کو چاہئے کہ وہ علاوہ چندہ کے اپنے نفع میں بھی سلسلہ کا حصہ رکھیں تا کہ ہم بھی دوستوں کو کہتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ کریں۔ ہم کہیں کہ دیکھو! تم جو کچھ خریدو گے اُس کا نفع سلسلہ کو جائے گا۔ غرض اگر اس طرح جماعت محنت کر کے کام کرے، طالبعلم اچھی طرح تعلیم حاصل کریں تا کہ بڑے عہدوں پر پہنچیں۔ جو عہدوں پر ہیں وہ اچھی وفاداری کے ساتھ گورنمنٹ کی خدمت کریں تاکہ اُن کو اور زیادہ ترقیاں ملیں، زمیندار محنت کر کے اچھی زمینداری کریں، تاجر محنت کر کے دیانتداری سے اپنے آپ کو پاپولر (PAPULAR) بنائیں تو پچیس تیس بلکہ چالیس پچاس لاکھ روپیہ سالانہ جمع ہونا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ میں صدر انجمن احمد یہ اور تحریک کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی غفلت کی وجہ سے اسلام کو نقصان پہنچے۔ وہ بے شک لوگوں میں تحریک کرتے رہیں اور انہیں یاد دلاتے رہیں مگر یہ طریق مجھے پسند نہیں کہ تحریک والے لکھ دیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو خلیفۃ المسیح کے سامنے لسٹ پیش کی جائے گی۔ مجھے یہ ناپسند لگتا ہے۔ جو خدا کے لئے دیتا ہے وہ خدا کے لئے دے خلیفہ کب تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر تم نے چندے خلیفہ کے نام سے لئے تو ایک دن محروم ہو جاؤ گے۔ خدا کے نام پر لو جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ لوگوں میں یہ عادت