انوارالعلوم (جلد 25) — Page xxii
انوار العلوم جلد 25 xii تعارف کتب حضور نے اپنے اس خطاب میں سب سے پہلے اسلام میں عورت کے مقام کو احادیث رسول کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسلامی تاریخ کے حالات و واقعات کی روشنی میں مسلمان عورتوں کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس خطاب کے آخر پر حضور نے احمدی خواتین کو دو نصائح فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ عور تیں اپنے مردوں کو قربانی پر آمادہ کریں کیونکہ مردوں سے کام لینا بھی عورتوں کو آتا ہے۔ وہ انہیں تحریک کر کے قربانی کیلئے آمادہ کر سکتی ہیں۔ اور اسکی ہمارے ہاں بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند ایک مثالیں حضور نے بیان فرمائی ہیں۔ دوسری اور آخری نصیحت اس خطاب میں حضور نے عورتوں کو یہ فرمائی ہے کہ عورتیں اپنی طاقتوں کو صحیح رنگ میں استعمال کریں۔ اس تعلق میں حضور نے فرمایا:۔ ” اگر تم اپنی طاقتوں کو سمجھو اور انہیں استعمال کرنا سیکھ لو تو تمہارے مقابلہ پر بڑی سے بڑی طاقت بھی ٹھہر نہیں سکتی بلکہ مرد بھی تم سے طاقت حاصل کریں گے۔ گویا تمہاری مثال دیا سلائی کی سی ہو گی اور مرد کی مثال تیل کے پینے کی سی۔ جب تم دیا سلائی سے آگ لگاؤ گی تو وہی مرد جو بزدلی کیوجہ سے کونہ میں کھڑا ہو گا جوش میں آجائے گا اور جس طرح آگ کی وجہ سے تیل بھڑک اٹھتا ہے تمہارے غیرت دلانے سے وہ بھی بھڑک اٹھے گا اور پھر کسی روک اور مصیبت کی پر واہ نہیں کرے گا اور قربانی کرتا چلا جائے گا۔“ دو (13) مجلس انصار اللہ مرکز یہ کے دوسرے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات حضرت مصلح موعود نے مورخہ 26 اکتوبر 1956ء کو سالانہ اجتماع انصار اللہ بمقام ربوہ کے موقع پر جو افتتاحی خطاب فرمایا وہ مورخہ 21، 24 مارچ 1957ء کو روزنامہ الفضل 66 ربوہ میں شائع ہوا۔ اِس خطاب میں حضور نے 40 سال سے زائد افراد کیلئے ”انصار اللہ “