انوارالعلوم (جلد 25) — Page 187
انوار العلوم جلد 25 187 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء حضرت ابراہیم کوئی نو دس سال کے تھے ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ان کے والد فوت ہو گئے تھے اور چچاہت بیچا کرتے تھے۔ چچانے ان کو کمائی کے لئے جو بتوں کی دکان تھی اُس میں اپنے بیٹوں کے ساتھ لگا دیا۔ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بڑھا آدمی جو کوئی اسی نوے سال کا تھا آیا اور آکے کہنے لگا کہ مجھے ایک بہت چاہئے۔ وہ سب ثبت پرست لوگ تھے انہوں نے کہا کہ پسند کر لو۔ اس نے ایک ثبت جو نیا بن کے آیا تھا اور جو ذرا خوبصورت بنا ہوا تھا اور جسے انہوں نے بتوں کے اوپر رکھا ہوا تھا پسند کیا۔ چچا زاد بھائیوں نے ابراہیم کو کہا کہ تم ذرا اٹھ کے اُتار دو۔ انہوں نے وہ بت اس کو اتار کر دیا تو ان کو سارا واقعہ یاد آگیا کہ یہ کب بنا ہے۔ وہ دراصل ایک دن پہلے ہی بن کے آیا تھا۔ جب اس بڑھے نے وہ ثبت لینا چاہا تو وہ اس کو دیکھ کر ہنس پڑے۔ وہ کہنے لگا بچے ! تم کیوں ہنستے ہو ؟ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تم نوے سال کے ہو اور یہ بت ابھی چند گھنٹے ہوئے بنا ہے تمہیں اس کے آگے سر جھکائے اور اس کے آگے بیٹھے ہوئے شرم نہیں آئے گی ؟ اُس کو اتنا غصہ آیا کہ اُس نے وہ بہت وہیں پھینکا اور کہنے لگا کہ یہ لڑکا بڑا شرارتی ہے۔ اس نے تو مجھے ڈانواں ڈول کر دیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔ بھا" گیا۔ بھائیوں نے اپنے باپ کے پاس آکر جو ان کے چچا تھے شکایت کی اور اس نے انہیں خوب مارا کہ تو میری دکان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح تو دکان تباہ ہو جائے گی۔ مگر دیکھو وہ ابراہیم کتنی برکتوں کا موجب ہوا کہ آج بھی ہم کہتے ہیں کہ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ۔ تو تم میں سے ہر بچہ ابراہیمی نمونہ کی نقل کر سکتا ہے۔ آخر وہ اُس وقت دس سال کے قریب کے ہی بچے ہوں گے۔ گویا ابراہیم کے دین کی بنیاد اور ابراہیمی برکتوں کی بنیاد نو دس سال کی عمر میں ہی پڑی۔ پس خدا تمہیں بھی ان باتوں کے سننے کے بعد ابراہیمی ایمان بخشے۔ اسی طرح حضرت علی کا واقعہ ہے۔ وہ بھی گیارہ سال کے تھے جب وہ دین کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی ہوئی تو آپ نے ایک دعوت کی جس میں مکہ کے تمام بڑے بڑے امراء کو بلایا اور انہیں کھانا کھلایا پھر آپ