انوارالعلوم (جلد 25) — Page 169
انوار العلوم جلد 25 169 مجلس انصار الله و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ء میں خطا تیسرے دن کا خطاب (فرمودہ 20 نومبر 1955ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- خطابات کل چونکہ پہلی دفعہ انصار اور خدام کا اکٹھا جلسہ ہوا تھا اس لئے ملاقات کے وقت میں کچھ گڑ بڑ ہو گئی تھی۔ صحیح طور پر نہ انصار میں انتظام ہو سکا اور نہ خدام میں ہوا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ آج میں پھر خدام میں آؤں اور یہ بھی مناسب سمجھا کہ کچھ الفاظ بھی کہہ دوں۔ احباب کو علم ہے کہ اس سال کے شروع میں مجھ پر ایک نہایت ہی خطرناک بیماری کا حملہ ہوا تھا اور اب تک اس بیماری کے آثار چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دماغ کو اتنا صدمہ پہنچا ہوا ہے کہ میں بڑی جلدی تھک جاتا ہوں۔ دو منٹ بھی بات کروں تو دماغ میں کوفت محسوس ہوتی ہے۔ یوں تو عقید تا دعا پر ہمارا ایمان ہے ہی مگر واقعاتی طور پر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جماعت کے بعض دوستوں نے خاص طور پر دعائیں کی ہیں اُس دن میری طبیعت اچھی ہو گئی ہے۔ اس جلسہ کے ایام میں انصار خصوصیت کے ساتھ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کل کی کوفت کے باوجود آج صبح میں نے اپنی طبیعت بہت ہی خوش محسوس کی اور میری آواز بھی اونچی نکلتی رہی۔ ملاقاتیں بھی میں نے کیں اور کام کی ایسی طاقت مجھے اپنے اندر معلوم ہوتی تھی کہ میں عام دستور سے زیادہ کام کرنے کی توفیق پاتا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب بھی بیماری کے صدمہ کا اثر دماغ سے زائل ہوتا ہے طبیعت میں سکون پیدا ہو جاتا ہے اور یہی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ آپ دماغ سے اس اثر کو زائل کرنے کی کوشش کریں لیکن دماغ سے اثر کا زائل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ مگر بہر حال جب دعاؤں کے ذریعہ سے دماغ سے وہ اثر زائل ہوتا ہے تو گو ایسی تندرستی تو نہیں ہوتی جیسے بیماری کے حملہ سے پہلے تھی