انوارالعلوم (جلد 24) — Page 48
48 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب مولانا مودودی صاحب کو بھی یہ واقعہ پڑھ کر اپنے ساتھیوں سمیت انوار العلوم جلد 24 اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہئے۔ اسی طرح اس نے لکھا کہ :- ہم مسلمان ہیں اسلام کی عظمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر مٹ جانا ہمارا فرض ہے۔ ہم صاف الفاظ میں کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم زندہ ہیں اس وقت تک کوئی طاقت مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی میت کو دفن نہیں کر سکتی » 110 (7) 29 اپریل 1939ء کو بٹالہ میں ایک احمدی لڑکی وفات پاگئی اس پر احرار نے ایک اپریل 1939ء کو بٹالہ میں لڑکی احرار نے بہت بڑے مجمع کے ساتھ اس کی نعش کو اس خاندانی قبرستان میں بھی دفن کرنے سے انکار کر دیا جہاں کئی احمدی مدفون تھے اور چند احمدیوں کو ساری رات محاصرہ میں رکھا۔ اور حکام کو توجہ دلائی گئی مگر اُنہوں نے کوئی کارروائی نہ کی۔ آخر نعش کو ایک اور قبرستان میں جو میونسپل کمیٹی کا تھالے گئے مگر وہاں بھی ہزاروں لوگ جمع ہو کر مزاحم ہوئے۔ آخر متواتر چوبیس گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد ایک بیرونی نشیب جگہ میں اس نعش کو دفن کیا 111 گیا۔ (8) 1942ء میں شیموگہ (ریاست میسور) میں ایک احمدی عبد الرزاق صاحب کی اہلیہ فوت ہو گئیں اور مسلمانوں نے میت کو قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا۔ چنانچہ تین دن تک میت پڑی رہی آخر حکومت کی طرف سے ایک علیحدہ جگہ میں لاش کو دفن کرنے کا انتظام کیا گیا۔ 112 (9) اگست 1943ء میں ڈلہوزی میں ایک احمدی دوست خان صاحب عبد المجید صاحب کی لڑکی کی وفات ہو گئی اس موقع پر بھی غیر احمدیوں نے اسے اپنے مقبرہ میں دفن کرنے سے روکا اور مقابلہ کیا۔ 113 یہ واقعہ الفضل جلد 23 نمبر 220 و نمبر 221 مورخہ 25،24 مارچ 1936ء صفحہ 3 و صفحہ 1 نیز الفضل 10 / اپریل 1936ء صفحہ 3 سے ماخوذ ہے۔