انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 43

انوار العلوم جلد 24 43 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب أَمَّا الْمُرْتَدَّ فَلَا يُغْسَلُ وَلَا يُكَفِّنُ وَإِنَّمَا يُلْقَى فِي حُفْرَةٍ كَالْكَلْبِ 29 (3) مجموعه کفریات مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفه سید محمد غلام صاحب احمد پور شرقیہ مطبوعه مطبع صادق الانوار بہاولپور میں لکھا ہے :- ایسے شخص کو بعد موت کے غسل دینا یا اس کا جنازہ پڑھنا اور کفن دینا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں بلکہ ایک کپڑے کے پارچہ میں لپیٹ کر کسی اور جگہ گڑھے میں گاڑ دینا 66 100 چاہئے۔ (4) فتوی در باب تکفیر مرزا غلام احمد قادیانی شائع کردہ مولوی محمد ریاست علی صاحب شاہجہانپوری میں بھی یہی فتویٰ درج کیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ :- وو ” یہ جو مر جائیں تو ان کو مسلمان لوگ اپنے قبرستان میں نہ دفن ہونے دیں * 101 غیر از جماعت افراد کے جنازوں اب اس کے جواب میں یہ کافتویٰ بائی سلسلہ احمدیہ کا بانی سلسلہ احمدیہ کا بھی فتویٰ پڑھ کے متعلق بانی سلسلہ احمدیہ کا فتویٰ بالی لیں ۔ ایک احمدی دوست چودھری مولا بخش صاحب سیالکوٹ کے استفسار کے جواب میں بانی سلسلہ احمدیہ نے فروری 1902ء میں تحریر فرمایا کہ:۔ ”جو شخص صریح گالیاں دینے والا، کافر کہنے والا اور سخت مکذب ہے اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نہیں مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے۔ گویا منافقوں کے رنگ میں ہے اس کے لئے کچھ بظاہر حرج نہیں کیونکہ جنازہ صرف دُعا ہے اور انقطاع بہر حال بہتر ہے“۔ اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے ہرگز جنازہ کے روکنے میں پہل نہیں کی بلکہ مولانا مودودی صاحب کے بزرگوں اور بزرگوں کے ید پر فتوی نمبر 3 اور 4 پر کوئی تاریخ درج نہیں اور نہ ٹریکٹوں پر سن اشاعت درج ہے