انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 26

انوار العلوم جلد 24 26 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب احمدی تمام مسلمان کہلانے والوں کو پھر مولانا مودودی اُمت محمدیہ میں ہی سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہے ہیں صاحب کو یہ بھی یاد رہے کہ احمدی تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں کو اُمتِ محمدیہ میں سمجھتے ہیں اور اگر انہوں نے کسی جگہ پر کافر کا لفظ استعمال بھی کیا ہے تو اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کی صداقت کے منکر ہیں یہ معنے نہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نہیں یا اصول اسلام کو نہیں مانتے۔ کافر کے معنے عربی زبان میں منکر کے ہیں۔ جب کوئی شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا تو عربی زبان اس کے لئے کافر کا لفظ ہی استعمال کیا جائے گا لیکن اگر کوئی یہ لفظ بولے تو اس کے معنے کھینچ تان کر یہ کر لیں کہ وہ اسے خدا اور رسول کا منکر کہتا ہے یہ سخت ظلم کی بات ہے۔ کبھی احمدیوں نے مسلمانوں کو اُمتِ محمدیہ سے خارج نہیں سمجھا۔ کبھی احمدیوں نے مسلمان کہلانے والوں کو کلمہ کا منکر قرار نہیں دیا، کبھی احمدیوں نے مسلمانوں کو خدا اور قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حشر و نشر اور تقدیر کا منکر قرار نہیں دیا۔ جب بھی کہا یہی کہا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے ایک بڑی بھاری صداقت کا انکار کیا ہے۔ یعنی حضرت مرزا صاحب کو جو خدمت دین اور اشاعت کے لئے آئے تھے نہیں مانا اور اس طرح اسلام کی ترقی میں روک بنے۔ مرزا صاحب کے الہامات میں یہ صاف طور پر واضح ہے کہ تمام مسلمان کہلانے والے اُمت محمدیہ میں شامل ہیں ۔ آپ کا ایک الہام ہے رَبِّ أَصْلِحْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ 38 یعنی اے میرے خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح فرما۔ اسی طرح آپ کا الہام ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلَی دِيْنِ وَاحِدٍ۔ مودودی صاحب اس بات کو بھی تو نہ بھولیں کہ مرزا صاحب نے کسی شخص کو کافر کہنے میں ابتدا نہیں کی۔ آپ صاف فرماتے ہیں:۔ ” اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ