انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 547

انوار العلوم جلد 24 547 سال 1954ء کے اہم واقعات اور کسی دوسرے نرو سے جڑنے کی کوشش کرے گا۔ جب وہ اس طرف کو چلے گا تو اس سے آپ کو گھبراہٹ ہو گی وہ یوں معلوم ہو گا کہ اندر کوئی چیز حرکت کرتی ہے۔ غرض مجھے انہوں نے پہلے سے کہہ دیا تھا مگر اتفاق کی بات ہے بعض دفعہ تشویش مقدر ہوتی ہے قریباً چھ مہینے تک جو انہوں نے وقفہ بتایا تھا اس میں مجھے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی صرف چھوٹی چھوٹی حرکت ہوتی تھی لیکن چھٹے ماہ کے آخر میں اس قدر شدید تکلیف شروع ہوئی کہ بعض دفعہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی مینڈک اندر کود رہا ہے اور چھلانگیں مارتا ہوا آگے جا رہا ہے۔ اور باوجود جاننے کے گھبراہٹ پیدا ہو جاتی۔ ڈاکٹروں سے پوچھا گیا کہ یہ کیا بات ہے تو کراچی کے سرجن نے کہا کہ یہ تکلیف اس سے پہلے ہونی چاہئے تھی اور اب تک آرام آجانا چاہئے تھا مگر ممکن ہے بڑی عمر کی وجہ سے اندمال کا وقت پیچھے ہو گیا ہو اس لئے ایک ماہ تک انتظار کریں۔ اگر طبعی عارضہ ہوا تو یہ تکلیف ہٹ جائے گی ور نہ پھر غور کیا جائے گا کہ اس نئی تکلیف کا نیا سبب کیا ہے۔ پھر لاہور آکر سر جن کو دکھایا گیا اور وہاں کے ڈاکٹروں نے بھی پہلی سی رائے ظاہر کی۔ بہر حال دو مہینے یہ تکلیف جاری رہی اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے دب گئی۔ اب مجھے سر کے اس حصہ میں نسبتاً حس بھی محسوس ہوتی ہے اور گردن کو ٹیڑھا کرنے سے جو پہلے یکدم جھٹکا سا محسوس ہوتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے سر میں ہتھوڑا مارا ہے وہ حالت بھی جاتی رہی ہے اور وہ جو اندر کوئی چیز زور سے حرکت کرتی معلوم ہوتی تھی جیسے کوئی جانور کود رہا ہے یا ناچ رہا ہے وہ بھی جاتی رہی ہے۔ بہر حال اب ایسی حالت ہے کہ اکثر اوقات میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔ گو کوئی کوئی وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ شاید کوئی بیماری ہو۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ایک بلا آئی، بڑی شکل میں آئی، بہت بری شکل میں آئی اور پھر چلی گئی۔ اصل میں تمام امور انجام کے لحاظ سے دیکھے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انجام اچھا کر دیا۔ مجھے کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ یوں تو ہم فصدیں کرواتے نہیں ممکن ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک خون نکالنا اچھا ہو اُس نے یہ ذریعہ پیدا کر دیا چلو انہوں نے