انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 542

انوار العلوم جلد 24 542 سال 1954ء کے اہم واقعات بیان کرتا ہوں کیونکہ اس حملہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آپ لوگ میرے سامنے آئے ہیں۔ دشمن نے تو اپنی طرف سے ختم کر دیا تھا لیکن کہتے ہیں "جس کو خدار کھے اس کو کون چکھے "۔ مارچ 1954ء کی دس تاریخ کا واقعہ ہے کہ میں عصر کی نماز پڑھنے کے لئے گیا نماز پڑھ کے جس وقت میں باہر نکلنے لگا اور دروازہ کے پاس پہنچا یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میرا ایک پیر باہر آگیا تھا یا نہیں آیا تھا مگر بہر حال میں دروازہ کی دہلیز کے پاس کھڑا تھا کہ پیچھے سے کسی شخص نے مجھ پر مجھ پر حملہ کیا۔ وہ حملہ اس شدت سے تھا اور ایسا اچانک تھا اور پھر چونکہ وہ حملہ سر کے پاس کیا گیا تھا یکدم میرے حواس پر اس کا اثر پڑا اور مجھے یہ نہیں محسوس ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جیسے کوئی بڑا پتھر یا دیوار آگری ہے اور اس پتھر یا دیوار کی وجہ سے میرے حواس مختل سے ہو گئے ہیں۔ اُس وقت میں اپنے ذہن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ زلزلہ آگیا ہے یا کیا ہوا ہے بس مجھے یہ سمجھ آتی تھی کہ کوئی بڑی سل میری گردن پر آکے پڑی ہے لیکن ایک جس شعوری ہوتی ہے اور ایک غیر شعوری ہوتی ہے۔ غیر شعوری جس کے ماتحت میں نے اُس جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس جگہ پر چوٹ تھی پھر مجھے اتنا یاد ہے کہ مجھے یہ دھند لکا سا معلوم ہوا کہ میں گر رہا ہوں اور مجھے کوئی شخص سہارا دے رہا ہے۔ چنانچہ جو پہرہ دار تھا اس نے مجھے گرتے ہوئے دیکھ کر یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اُس کو پتہ لگ گیا تھا کہ کسی نے حملہ کیا ہے یا اُس کو بھی نہیں پتہ تھا۔ بہر حال اُس نے یہ دیکھ کر کہ یہ گر رہے ہیں وہ میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنا سینہ لگا کے ہاتھ سے مجھے سنبھال لیا۔ اُس وقت مجھے یہ یاد ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے اُس کے کان پر کوئی زخم ہے اور میں یہ سمجھنے لگا کہ شاید وہی پتھر یا سل جو گری ہے وہ اس کو بھی لگی ہے اور اس کی وجہ سے اسے یہاں زخم آیا ہے۔ اس اثر کے بعد اس نے مجھے سہارا دے کر باہر کھینچایا میں دھکے میں باہر آگیا بہر حال مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جو پتھر گرا ہے اُس کے دھکے کی رو میں میں نکل کے باہر آگیا ہوں۔ مسجد کے آگے جو دو تین سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں اُن کے اوپر دھکے کے زور میں یا اس کے کھینچنے سے (شاید اس نے مجھے بچانا چاہا میرا ایک پیر دیوار کے پرے چلا گیا اور ایک ادھر رہ گیا۔ وہ حالت ایسی تھی کہ