انوارالعلوم (جلد 24) — Page 21
انوار العلوم جلد 24 21 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب ابن عربی، حضرت شیخ عبد القادر صاحب جیلانی، حضرت جنید بغدادی، حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی، شیخ شہاب الدین صاحب سہر وردی، شیخ بہاؤ الدین صاحب نقشبندی، حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت امام مالک، حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی، حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی کی طرح خدا اور اس کے عرش کی طرف دیکھتے ہیں اور اس اُمید میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ انہیں اُٹھائے اور اپنے تخت پر دائیں اور بائیں انہیں بٹھا دے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زبانوں سے جھوٹ نہیں نکلتا اور جو دُنیوی لالچوں سے بالکل آزاد ہوتے ہیں جو تنگ نظری سے محفوظ ہوتے ہیں جو خدا کی مخلوق کو کچلنے اور مسلنے کی نیتیں نہیں کرتے بلکہ ان کو سنوارنے اور سدھارنے کے ارادے رکھتے ہیں وہ اسلام کو ایسی بھیانک شکل میں پیش نہیں کرتے کہ دُنیا اس کو دیکھ کر منہ پھیر لے بلکہ وہ اسلام کو ایسی خوش شکل میں پیش کرتے ہیں کہ شدید سے شدید مخالف بھی رغبت اور محبت سے اس کی طرف مائل ہو اور ایک مسلمان سچے طور پر یہ کہہ سکے کہ میرا دین وہ ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ 31 اسلام کے احکام کو دیکھ کر اور اس کے محسن سلوک اور اس کی تعلیم کے جمال کو دیکھ کر کافر بھی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتا اور اسلامی تعلیم اس کو حاصل ہوتی تا کہ وہ بھی اپنے ہم مجلسوں میں فخر کے ساتھ اپنی گردن اُٹھا سکتا اور کسی دشمن کے سامنے اسے شرمندہ نہ ہونا پڑتا۔ کیا مودودی صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر حضرت ابو بکر، حضرت عمررؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ نے جو کچھ حاصل کیا تھا وہ بنی اسرائیل کے چھوٹے چھوٹے نبیوں سے بھی کم تھا جو بعض دفعہ دس دس گاؤں یا ہیں ہیں گاؤں کی طرف مبعوث ہوتے تھے۔ کیا ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کے اخلاق فاضلہ ، معرفت تامه یقین ما بعد ، توکل علی اللہ اور خدا کی راہ میں قربانی اور ایثار کے مقابلہ میں بنی اسرائیل کے ان سینکڑوں نبیوں کے بھی جن کے نام تک آج محفوظ نہیں ہیں ویسے ہی کارنامے پیش کئے جاسکتے ہیں ؟ اُمت محمدیہ میں جس قسم کے روشن ستارے پیدا ہوئے ہیں