انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 490

انوار العلوم جلد 24 490 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب ہمارے ہاں رواج تھا کہ لوگ شادی بیاہ پر نیو تا دیتے تھے اور بد قسمتی سے یہ رواج بھی تھا کہ جتنا کسی نے پہلے دیا ہو کم از کم اتنا ضرور دیا جائے۔ ایک شادی کے موقع پر کسی بخیل نے ہیں روپے نیو تا دینا تھا اور اس قدر رقم دینا اُسے دو بھر معلوم ہو رہا تھا۔ وہ باہر نکلا تو کوئی غریب آدی بھی باہر کھڑا تھا جو اسی فکر میں تھا کہ نیو تا کس طرح ادا کرے۔ اس بخیل نے دوسرے شخص سے کہا۔ آؤ میں تمہیں نیوتا نہ دینے کی ایک تجویز بتاؤں چنانچہ وہ دونوں چھت پر چڑھ گئے اور چھت کے اوپر پیر مارنے لگے۔ اس سے نیچے بیٹھے ہوئے لوگوں پر مٹی گری۔ گھر کے مالک نے آواز دی اور کہا تم چھت پر کون ہو ؟ اس پر اُس بخیل نے کہا اچھا اب ہم کون ہو گئے اور یہ کہتے ہوئے وہ دونوں وہاں سے ناراض ہو کر چلے گئے۔ اس وقت مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ بھی اسی قسم کے ہیں ۔ تھیوری ڈا گما اور کریڈ (THEORYDOGMA OR CREED) آرام سے طے کرنے والی باتیں ہیں۔ یہ ایسی باتیں نہیں جن پر لڑا جائے۔ پس میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم تعلیم الاسلام پر عمل کرو۔ پھر چاہے تم کسی فرقہ کے عقائد کے مطابق چلو تمہارے اختلافات دور ہو جائیں گے۔ اس کے بعد میں اپنے بچوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جب میں نے دوسروں سے کہا ہے تو ان سے کیوں نہ کہوں۔ میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے عمل سے یہ ثابت کر دو کہ تمہارا ایک قومی کیریکٹر ہے۔ اگر تم مثلاً کسی کے بہکانے سے سینما دیکھنے چلے جاتے ہو تو تمہارا کیا کیریکٹر ہے۔ اگر تمہارا اتناہی کیریکٹر ہے کہ ٹکٹ مفت مل گیا تو سینما د یکھ لیا تو جب ملک کی کسی دشمن سے لڑائی ہوئی اور تم کسی دستہ فوج کے کمانڈر ہوئے تو کیا تم دباؤ کے نیچے آکر ملک کے راز افشاء نہیں کرو گے؟ اگر تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے کیریکٹر کا خیال نہیں رکھتے تو تم بڑی باتوں میں اس کا خیال کیسے رکھو گے۔ تم دیال سنگھ کالج کو تو جانتے ہو گے لیکن تمہیں شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ اس کے بانی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ اس نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ اس کا ایک مولوی سے دوستانہ تھا۔ اس نے جب اسلام کا مطالعہ کیا تو اس نے اسے قبول کرنے کا ارادہ کر لیا