انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 414

انوار العلوم جلد 24 414 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب ہمارے نزدیک تو دانستہ تھا۔ لیکن اگر کوئی ہمارے ساتھ اتفاق نہ کرے تو اسے یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ نادانستہ طور پر ہندو کے ہاتھ کو مضبوط کرنے کے لئے کیا گیا۔ اس کا ثبوت تیج کا حوالہ ہے۔ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اُس وقت غیر احمدی بھی احمدیت کی تائید کرنے لگے تھے اور اس کا علاج کرنے کے لئے ہندوؤں کو پکارا گیا تھا۔ اس کے معاً بعد جماعت احرار پیدا ہوئی اور پھر چند سال میں جماعت اسلامی۔ تیج کے مضمون، اس کے وقت اور ان دونوں جماعتوں کے ظہور کے وقت اور ان کے طریق عمل سے ظاہر ہے کہ یہ ہندوؤں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ نیز جس رنگ میں یہ کوشش پاکستان بننے کے بعد کی گئی اس سے بھی ظاہر ہے کہ متعصب ہندوؤں کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ایسا کیا گیا کیونکہ تمام فساد کی جڑ یہ اصل ہے کہ ایک مینارٹی کو کیا حق ہے کہ وہ ایک میجارٹی کے مقابلہ میں اپنی رائے ظاہر کرے۔ ( آفاق کی مثال (2) اور اسلام کو ایسی بھیانک صورت میں پیش کیا گیا کہ کوئی منصف مزاج آدمی اس کی معقولیت کا قائل نہیں ہو سکتا۔ اور ہندوستان اور پاکستان میں ایک ایسا مواد پیدا کر دیا گیا کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان اور ہندوستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان کا مسلمان ہمارے خلاف ہو گا کیونکہ ہندو پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق وہ اس کا وفادار نہیں ہو سکتا اور اسے اس الزام کو دور کرنے کے لئے ضرورت سے بھی زیادہ وفاداری کا اظہار کرنا پڑے گا ورنہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ ادھر پاکستان کا ہندو ان خیالات کے سننے کے بعد جو ایک اسلامی حکومت کے متعلق ان علماء نے ظاہر کئے ہیں پاکستان کی وفاداری کے جذبات اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے گا۔ در حقیقت پاکستان کو مضبوط کرنے والی اور پاکستان کے ہندو کو سچا پاکستانی بنانے والی اور ہندوستان کے مسلمان کو خونریزی سے بچانے والی اور بزدل بنانے سے محفوظ رکھنے والی : والی پالیسی وہی ہے جو کہ اسلام کی اس تشریح سے ثابت ہوتی ہے ہوتی ہے جو ہم بیان کرتے ہیں اور جس کو قائدا عظم بھی اپنی زندگی میں بیان کرتے رہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں کسی اقلیت یا غیر اقلیت کو کوئی خوف نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے یکساں آزادی اور یکساں کاروبار کے مواقع نصیب ہیں