انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 9

انوار العلوم جلد 24 رم 9 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب رض حضرت ابو ہریرہ یہ اعلان لے کر باہر نکلے تو سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی بات سن کر زور سے تھپڑ مارا اور وہ زمین پر گر گئے۔ زمین سے اُٹھ کر وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شکایت کرنے کے لئے بھاگے۔ حضرت عمر بھی ان کے پیچھے پیچھے آئے اور اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ پیغام ابو ہریرہ کو دیا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ یارسول اللہ ! ایسا نہ کیجئے ورنہ لوگوں کو غلط فہمی ہو گی اور وہ عمل ترک کر بیٹھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بہت اچھا۔ اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو حضرت عمر رد نہیں کرتے بلکہ یہ ڈرتے ہیں کہ اس بات کے غلط معنی لے لئے جائیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شبہ کا اظہار فرماتے ہیں اور آپ اس شبہ کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ یہی موقف حضرت عائشہ اور احمدیوں کا اور احمدیوں کا ہے۔ وہ رسول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان حدیثوں کو مانتے ہیں جن میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ لا نَبِی بَعْدِی لیکن وہ ان معنوں کو نہیں مانتے جو اس ذو معانی فقرہ سے لوگ نکال لیتے ہیں اور اس نے غلط مفہوم کو لوگوں میں پھیلانے سے منع کرتے ہیں۔ نہ حضرت عائشہ کا منشاء تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ غلط بیان فرمایا ہے نہ حضرت عمرؓ کا یہ منشاء تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہے۔ اگر وہ ایسا سمجھتے تو ان کا ایمان کہاں باقی رہتا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تصدیق کیوں فرما دیتے اور انہی کے طریق کو احمد یوں نے اختیار کیا ہے۔ دُنیا میں یہ بات عام ہے کہ بعض فقرے سیاق و سباق سے مل کر صحیح معنے دیتے ہیں۔ سیاق و سباق سے علیحدہ ہو کر صحیح معنے نہیں دیتے۔ مثلاً یہی لَا نَبِی بَعْدِی کا فقرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور موقع پر حضرت علیؓ کے متعلق استعمال فرمایا ہے۔ اس سیاق و سباق کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس فقرہ کا وہ مفہوم نہیں ہے کو