انوارالعلوم (جلد 24) — Page 393
انوار العلوم جلد 24 393 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بہ بیان سوال بر صفحہ 13 یہ ہے: سوال: اگر لفظ بنیادی عام معنی میں استعمال ہو تو پھر ؟ جواب: عام مفہوم کے لحاظ سے اس لفظ کے معنی " اہم " کے ہیں۔ لیکن اس مفہوم کی رو سے بھی یہ اختلافات حقیقتا" بنیادی " نہیں اور انہیں فروعی کہا جا سکتا ہے۔ سوال بر صفحہ 32 و 33 یہ ہے: سوال: آپ نے تشریعی اور غیر تشریعی نبی کا فرق بیان کر دیا ہے۔ اب کیا آپ مہربانی کر کے ظلی اور بروزی نبی کی تشریح فرمائیں گے ؟ جواب: ان اصطلاحات کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس کی نسبت یہ اصطلاحات استعمال کی جائیں وہ بعض مخصوص صفات کا براہ راست حامل نہیں ہو تا بلکہ اپنے متبوع سے روحانی ورثہ پاتے ہوئے انعکاسی رنگ میں یہ صفات حاصل کرتا ہے۔ سوال بر صفحہ 31 یہ ہے: سوال: کیا آپ کے خیال میں مسیلمہ کذاب مرتد تھا؟ جواب: ہاں۔ جب میں نے یہ کہا ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھا تو اس سے میری مراد یہی ہے کہ وہ تشریعی نبوت کے دعوی کے بعد مسلمان نہیں رہا تھا۔ دوسری تحریری درخواست مورخہ 14 جنوری 1954ء جو منجانب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمد یہ عدالت میں داخل کی گئی جناب عالی ! میں نے کل جو بیان عصمت انبیاء کے متعلق دیا تھا میرے دل میں شک تھا کہ شاید میں پوری طرح اپنے مافی الضمیر کو واضح نہیں کر سکا۔ عدالت کے بعد صدر انجمن احمدیہ کے وکلاء سے مشورہ کرنے پر انہوں نے بھی اس رائے کا اظہار کیا۔ اس لئے میں