انوارالعلوم (جلد 24) — Page 6
انوار العلوم جلد 24 6 66 طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے “۔ 3 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب ظلم او اور جب یہ بات ہے تو یہ عوام الناس کا مطالبہ کس طرح ہو گیا ؟ کیا یہ خلاف حقیقت بات نہیں کہ ایک طرف تو مودودی صاحب خود لکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ گروہ کا کثیر حصہ اس مطالبہ کی حقیقت کو نہیں سمجھتا اور سندھ ، بنگال، بلوچستان، صوبہ سرحد ، کراچی اور خیر پور کے عوام الناس کا اکثر حصہ بھی اس کی اہمیت سے واقف نہیں مگر باوجود اس کے وہ وزارت کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ :- ا نہیں دیکھنا یہ چاہئے کہ مطالبہ معقول ہے یا نہیں اور اس کی پشت پر رائے عام کی طاقت ہے یا نہیں ؟ اگر یہ دونوں باتیں ثابت ہیں تو پھر جمہوری نظام میں کسی منطق سے ان کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ 4 مولانا مودود ا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اور کسی منطق سے یہ مطالبہ رد ہو سکے یا نہ ہو سکے خود مودودی صاحب کی منطق سے وہ رڈ ہو جاتا ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے ان کو یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ :- تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے ماسوا دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں ابھی عوام الناس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے “۔ اور یہ بات خود مودودی صاحب کو تسلیم ہے اس لئے ہم اس مطالبہ کو قبول نہیں کر سکتے۔ اب بتائیے کہ حکومت کے اس جواب کا آپ کے پاس کیا منطقی رڈ ہو گا۔ کیا یہ جواب جمہوریت کے اصول کے عین مطابق ہو گا یا نہیں اور کیا یہ جواب سچا ہو گا یا نہیں اور اگر یہ جواب جھوٹا ہے تو آپ نے یہ جھوٹ اپنی کتاب میں کیوں درج کیا ؟ قادیانیوں نے ختم نبوت کی نئی تفسیر (3) مولانا مودودی صاحب کر کے سواد اعظم سے قطع تعلق کر لیا اس کے بعد یہ سوال اٹھاتے ہیں که قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا