انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 334

انوار العلوم جلد 24 334 سیر روحانی (7) آپ نے فرمایا ایسانہ کہو تمہارا خریدار تو خود خدا ہے۔ 66 تو دیکھو ! وہ شخص جس کو دیکھ کر اُس کے دوست اور رشتہ دار بھی گھن کھاتے تھے۔ اُس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ یہ خدا کا پیارا ہے۔ یہی بات حَى عَلَی الْفَلَاحِ میں بیان کی گئی ہے کہ دنیا کی ساری کامیابی تمہیں یہاں آنے سے ہی حاصل ہو گی۔ تم سب جگہ دھتکارے جا سکتے ہو ، تم سب جگہ حقیر سمجھے جاسکتے ہو مگر میرے رب کی عبادت اور غلامی ہر مقصد و مدعا میں انسان کو کامیاب بنا دیتی ہے۔ جو اُس کے ہو جاتے ہیں اُن پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ جو اُس کے غلاموں پر ہاتھ ڈالے خواہ ساری دُنیا کا بادشاہ کیوں نہ ہو اُس کے ہاتھ شل کر دیئے جاتے ہیں ، اُس کی رگِ جان کاٹ دی جاتی ہے، اُسے ذلیل اور رُسوا کر دیا جاتا ہے کیونکہ خدا کے غلام دنیا کے بادشاہوں سے زیادہ معزز ہیں اور اُن کے محافظ فرشتے ہوتے ہیں جو دُنیوی سپاہیوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اُس کی یہاں پہنچ کر وہ نوبتی ایک بار پھر کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ۔ یعنی اب تک جو کچھ وحدانیت کا ایک بار پھر اقرار میں نے کہا تھا وہ صرف میرے عقیدہ کا اظہار تھا مگر اب جب کہ میری گودی بھر گئی ہے اور مجھے وہ چیزیں ملی ہیں جو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس بھی نہیں ہیں اور میر اخیال حقیقت اور میر اعقیدہ واقعہ بن چکا ہے میں دوبارہ اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ واقع میں سب سے بڑا ہے کیونکہ میں نے بیکس اور بے بس ہونے کے باوجود فلاح پالی، میر اعقیدہ ٹھیک نکلا اور میرا ایمان حقیقت بن گیا۔ اس لئے اب میں یقین اور تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ پھر وہ آخر میں کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہ خدا کی بڑائی کے اظہار سے تو صرف یہ ثابت ہوتا تھا کہ کئی طاقتوں میں سے خدا کی طاقت سب سے بڑی ہے مگر اُس کے نشان دیکھ کر اب تو میں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں خدا کی حکومت کے سوا کسی کی حکومت ہی باقی نہیں رہے گی صرف وہی پو جا جائے گا اور اس کا حکم دنیا میں چلے گا۔