انوارالعلوم (جلد 24) — Page 329
انوار العلوم جلد 24 329 سیر روحانی (7) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔ اس کے بعد اس نے لکھا کہ تم ہماری اطاعت کا سب سے وعدہ لو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اُس نے عرب کے ایک آدمی کو پکڑنے کیلئے جو حکم بھیجا تھا تم اُس کو منسوخ کر دو۔ یہ 24 وہ چیز تھی کہ جس کو دیکھ کر یمن کا گورنر اُس ادن دن سے سے دل دل سے سے مسلمان ہو گیا 64 اور بعد میں دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ غرض اللهُ أَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم کس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جن کو تم بڑے سے بڑا سمجھتے ہو حکومت امریکہ کو سمجھ لو، حکومت روس کو سمجھ لو خدا کے مقابلہ میں اُن کی کیا حیثیت ہے۔ جو خدا کا بندہ ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، کچھ کر لو خدا میر ا محافظ ہے تم کیا کر لوگے۔ حکومتیں کچھ نہیں کر سکتیں، بادشاہتیں کچھ نہیں کر سکتیں، وہ اپنے رُعب جتائیں، ڈرائیں جو کچھ مرضی ہے کر لیں، وہ خدا ہی کا بندہ ہے اور وہی جیتے گا۔ آخر جو سب سے بڑا بادشاہ ہے اُس کے ساتھ جو لگے گا اُس کو بڑائی ہی ملے گی چھوٹائی نہیں ملے گی۔ خدا کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک دفعہ شرارتاً مقدمہ کر دیا گیا۔ مقدمہ کے دوران میں خواجہ کمال الدین صاحب کو اطلاع ملی کہ آریوں نے مجسٹریٹ پر زور دیا ہے کہ ان کو ضرور سزا دے دو۔ گو مہینہ قید کرو مگر ایک دفعہ ذلیل کر دو تا کہ انہیں پتہ لگ جائے۔ مجسٹریٹ نے بھی اُن سے وعدہ کر لیا۔ خواجہ صاحب کو پتہ لگا تو گھبرائے ہوئے آئے مولوی محمد علی صاحب کو ساتھ لیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔ کہنے لگے حضور ابڑی بری خبر لائے ہیں۔ اس اس طرح مجھے یقینی طور پر پتہ لگا ہے کہ آریہ سماج کا اجلاس ہوا ہے اور چونکہ وہ مجسٹریٹ آریہ ہے اُس سے انہوں نے وعدہ لیا ہے کہ وہ تھوڑی بہت سزا ضرور دے دے، پیچھے دیکھا جائے گا انہوں نے کہا ہے کہ اول تو چھوٹی بڑی سزا پر کوئی پکڑ تا کیا ہے اور پھر اگر گرفت ہو گی بھی تو کیا ہے تم نے قوم کی خاطر یہ کام کرنا ہے اسلئے کوئی تدبیر