انوارالعلوم (جلد 24) — Page 327
انوار العلوم جلد 24 327 سیر روحانی (7) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ گرفتاری کیلئے کسری کا ظالمانہ حکم میں دنیا کی حکومت دو حصوں میں تقسیم تھی آدھی حکومت قیصر کے پاس تھی اور آدھی حکومت کسری کے پاس تھی۔ مغرب پر قیصر حاکم تھا اور مشرق پر کسری حاکم تھا۔ یہودیوں نے ایک دفعہ کسری کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہوا ہے اور وہ طاقت پکڑ رہا ہے کسی وقت وہ تمہارے خلاف جنگ کرے گا۔ وہ کچھ پاگل ساتھا۔ یمن اُس وقت کسری کے ماتحت تھا اُس نے یمن کے گورنر کو حکم بھیجا کہ اس طرح عرب میں ایک مدعی پیدا ہوا ہے تم اُسے گرفتار کر کے میرے پاس بھیجوا دو۔ چونکہ یمن کا گورنر عرب کے لوگوں سے واقف تھا اُس نے خیال کیا کہ ان لوگوں نے کیا بغاوت کرنی ہے بادشاہ کو دھوکا لگا ہے۔ اُس نے بادشاہ کے دو سفیروں کو بھیجا اور ساتھ وصیت کی کہ تم کوئی سختی نہ کرنا۔ بادشاہ کو کوئی دھوکا لگا ہے ورنہ عربوں میں کیا طاقت ہے کہ انہوں نے کسری کا مقابلہ کرنا ہے۔ تم جانا اور سمجھانا اور میری طرف سے پیغام دینا کہ آپ مقابلہ نہ کریں آجائیں۔ میں سفارش کرونگا تو کسری انہیں کچھ نہیں کہے گا۔ چنانچہ یہ لوگ مدینہ پہنچے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا کس طرح آنا ہوا؟ انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے بھجوایا ہے۔ اُس کے پاس کچھ شکایتیں آئی ہیں جن کی بناء پر اُس نے کہا ہے کہ آپؐ کو اُس کے سامنے پیش کیا جائے اور ہم گورنر یمن کی طرف سے آئے ہیں کیونکہ وہ یہاں کے حالات کا واقف ہے۔ اُس نے ہم کو نصیحت کی تھی کہ ہم آپ کو تسلی دلائیں کہ کسی نے بادشاہ کے پاس غلط رپورٹ کی ہے ورنہ ہمیں تسلی ہے کہ آپؐ نے کوئی شرارت نہیں کی۔ میں بادشاہ کی طرف ساتھ چٹھی لکھد و نگا کہ یہ غلط رپورٹ ہے اس کو کچھ نہ کہا جائے اور واپس کر دیا جائے اس لئے آپ ہمارے ساتھ چلیں وہاں سے آپ کو گور نریمن کی سفارش مل جائے گی اور اُمید ہے کہ وہ درگزر سے کام لے گا۔ آپ نے فرمایا اچھا دو تین دن ٹھہر و پھر میں جواب دونگا۔ انہوں نے کہا یہ ٹھیک نہیں