انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 307

انوار العلوم جلد 24 307 سیر روحانی (7) کر دو۔ پھر فرمایا وَلا تَقْطَعُوا شَجَرًا 4 بلکہ کوئی درخت بھی نہ کاٹو۔ کیونکہ مسافر بیچارہ اس کے نیچے پناہ لیتا ہے، غریب بے چارے اُس کے سایہ میں بیٹھتے ہیں اور تم لوگ لڑنے والوں سے لڑنے کے لئے جارہے ہو۔ اِس لئے نہیں جارہے کہ وہ قوم سایہ سے بھی محروم ہو جائے اس لئے اُن کو نہیں کاٹنا۔ پھر فرمایا۔ وَلَا تَهْدِمُوا بِنَاءً 55 کوئی عمارت نہ گرانا کیونکہ ان کے گرانے سے لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور ان کو تکلیف ہو گی۔ اب دیکھو پچھلے فسادات میں کتنے مکان جلائے گئے۔ لاہور میں ہزاروں مکان جلائے گئے، امر تسر میں ہزاروں مکان مسلمانوں کے جلائے گئے ، بلکہ کوئی شہر بھی ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کے مکانات دس بیس یا تیس فیصدی نہ جلائے گئے ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ لا تَهْدِمُوا بِنَاء۔ ایک مکان بھی تم کو گرانے کی اجازت نہیں کیونکہ تم اس لئے نہیں جارہے کہ لوگوں کو بے گھر کر دو بلکہ اسلئے جا رہے ہو کہ ظلم کا ازالہ کرو اس سے آگے تم نے کوئی قدم نہیں اُٹھانا۔ اسی طرح آپ کی دوسری ہدایات میں ہے کہ ملک میں ڈر اور خوف پیدا نہ کرنا۔ فوجیں جاتی ہیں تو ان کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگوں کو وہ اتنا ڈرائیں کہ اُن کی جان نکل جائے۔ جنرل ڈائر کے ہندوستانیوں : ہندوستانیوں پر مظالم چنانچہ 20-1919ء میں امرتسر میں ایک جگہ پر کسی عیسائی عورت کو کسی ہندوستانی نے ذرا سا مذاق کر دیا۔ اُس وقت انگریزی حکومت نے جنرل ڈائر کو مقرر کیا اور اُس نے حکم دیا کہ ہر شریف سے شریف اور بڑے سے بڑا آدمی یہاں سے گزرے تو گھسٹتا ہوا جائے۔ بڑے بڑے لیڈروں کو سپاہی پکڑ کر گرا دیتے تھے اور اُسے کہتے تھے کہ یہاں سے گھسٹتا ہوا چل ۔ پھر مجرم پیش ہوتے تھے تو انہیں بغیر کسی تحقیق کے بڑی بڑی سزائیں دی جاتیں تالوگوں میں خوف پیدا ہو۔ ایک انگریز مجسٹریٹ کا واقعہ سے ہمارے ساتھ ایک عجیب واقعہ گزرا۔ ایک شخص نے انگریز آفیسر سے لڑائی کی تھی۔