انوارالعلوم (جلد 24) — Page 297
انوار العلوم جلد 24 297 سیر روحانی (7) اپنے لڑکوں کو بلا کر کہا کہ جو چیزیں میں نے الگ رکھوائی تھیں وہ بھی اس کو دیدو۔ وہ مسلمان تھانیدار جو اُن کے ساتھ آیا تھا وہ یہ دیکھ کر میرے ایک لڑکے سے لڑ پڑا اور کہنے لگا آپ لوگ یہ کیا غضب کر رہے ہیں ان لوگوں نے ہم پر کیا کیا ظلم کئے ہیں اور آپ ان کی ایک ایک چیز ان کو واپس کر رہے ہیں یہ تو بہت بری بات ہے مگر اس کے روکنے کے باوجود ہم نے تمام چیزیں نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں۔ اُنہی چیزوں میں کچھ زیورات بھی تھے وہ میں نے رومال میں باندھ کر ایک الماری میں رکھ چھوڑے جب میں نے دیکھا کہ یہ لوگ اُسے چیزیں دینے میں روک بنتے ہیں تو میں نے سمجھا کہ زیورات ان لوگوں کے سامنے دینا درست نہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اُس سے زیور چھین لیں۔ یہ لسٹوں میں تو ہیں نہیں چنانچہ میں نے وہ رومال رکھ لیا اور اُسے کہلا بھیجا کہ جاتی دفعہ مجھ سے ملاقات کرتا جائے۔ میری غرض یہ تھی کہ جب وہ آئے گا تو میں علیحد گی میں اُس کے زیورات اُس کے حوالے کر دونگا۔ چنانچہ جب وہ آیا تو میں نے رومال نکالا اور کہا یہ تمہارے زیورات تھے جو اس مکان سے ہمیں ملے اب میں یہ زیورات تم کو واپس دیتا ہوں اور میں نے بلایا ہی اسی غرض کیلئے تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر میں نے لوگوں کے سامنے زیورات واپس کئے تو ممکن ہے ہے سپاہی اور اور تھانیدار وغیرہ تم سے زیور چھین لیں۔ ۔ وہ وہ حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ جو ہماری اپنی لسٹیں ہیں اُن میں بھی ان زیوروں کا کہیں ذکر نہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے نہیں ہو گا مگر یہ زیور ہمیں تمہارے مکان سے ہی ملے ہیں اِس لئے خواہ لسٹوں میں ان کا ذکر نہ ہو بہر حال یہ تمہارے ہی ہیں۔ اُس پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اُس نے وہاں جا کر اخباروں میں اعلان کرایا کہ ہماری لسٹوں سے بھی زائد سامان ہمیں دیا گیا ہے۔ حکومت کی جو لسٹیں تھیں اس سے ہی زائد سامان نہیں دیا گیا بلکہ جو ہماری لسٹیں تھیں اُن سے بھی زائد سامان دیا گیا۔ دوسرے دن وہی تھانیدار جو علاقہ کا تھا پھر آیا اور کہنے لگا میں نے ملنا ہے۔ میں نے اُسے بلوالیا اور پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا مجھے تو رات نیند نہیں آئی، میرا خون کھولتا رہا ہے۔ میں نے کہا۔ کیوں؟ کہنے لگا آپ کے آدمیوں نے بڑا بھاری ظلم کیا ہے۔ ان کم بختوں نے ہمیں لوٹ کر تباہ کر دیا ہے اور آپ ان سے یہ