انوارالعلوم (جلد 24) — Page 289
انوار العلوم جلد 24 289 سیر روحانی (7) تو یروشلم کا ہر عیسائی مسلمانوں کا جاسوس بن گیا تھا اور اُن کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔ اگر یہی سلوک مسلمان قومیں دوسروں کے ساتھ کرنا شروع کر دیں تو دیکھو فوراً یہ صورت شروع ہو جائے گی کہ غیر ملکوں میں ہمارے ہمدرد پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے اور وہ ہماری مدد کرنی شروع کر دیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے لئے صابر ہونے کی شرط لگائی ہے اور صابر کے معنے (1) مصیبت کو برداشت کرنے (2) استقلال سے نیک کاموں میں لگے رہنے اور اختلافات کو نظر انداز کر دینے کے ہوتے ہیں۔ پس اگر مسلمان باہمی اختلاف چھوڑ کر موت یا نقصان مال اور نقصان آرام کا ڈر دُور کر دیں۔ حصولِ مدعا کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اُن کے لئے استقلال کے ساتھ بغیر وقفہ اور سستی اور تزلزل کے لگ جائیں تو دنیا کی ہر طاقت پر وہ غالب آسکتے ہیں بشر طیکہ وہ مظلوم ہوں ، کسی کے حق پر دست اندازی نہ کریں اور محریت ضمیر کو قائم کرنے کے ذمہ دار ہوں نہ کہ ڈنڈے سے اپنا مذہب منوانے پر تل جائیں جس سے منافقت بڑھتی ہے اور صفوں میں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن کے ایجنٹ اُن ممالک میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہفتم دوسری حکومتوں کے نوبت خانوں سے تو یہ اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں حکومت کی فوجیں ہمارے ساتھ ہیں لیکن اس نوبت خانہ سے تو یہ اطلاع دی جاتی تھی کہ سب دنیا کی حکومتیں ہمارے خلاف ہیں اور کسی کی حمایت ہم کو حاصل نہیں۔ چنانچہ فرمایا الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ 36 مسلمانوں کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ اب تو ساری دنیا تمہارے خلاف اکٹھی ہو گئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ گو ساری دنیا تمہارے خلاف ہو گی مگر چونکہ تم مظلومیت میں ہو اور مظلومیت کی وجہ سے تم اپنے دفاع کے لئے جنگ کرتے ہو اور چونکہ تم اخلاق اور حریت ضمیر کے لئے جنگ کرنے لگے ہو اس لئے گو تمام زمینی حکومتوں نے تمہارے خلاف اجتماع کر لیا ہے لیکن آسمانی حکومت نے تمہاری تائید کا فیصلہ کر دیا ہے ۔ وَلَيَنْصُرَنَّ الله لَيَنْصُرَنَّ الله مَنْ يَنْصُرُهُ اور خدا خدا اُس کی تائید کرے گا جو اُس کی مدد