انوارالعلوم (جلد 24) — Page 265
انوار العلوم جلد 24 265 سیر روحانی (7) عام طور پر فی خیمہ ایک روشنی ہوا کرتی ہے۔ اس لحاظ سے دس ہزار خیمہ بن گیا مگر خزاعہ کی ساری تعداد دو چار سو ہے۔ پس وہ کس طرح ہو سکتا ہے اُنکی تعداد تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا فلاں قبیلہ ہو گا کہنے لگا آخر وہ کیوں آئے اور پھر یہ کہ اُن کی تعداد بھی اتنی نہیں۔ غرض اِسی طرح پانچ سات قبائل کے نام لیتے گئے کہ فلاں ہو گا ، فلاں ہو گا اور ہر بار ابو سفیان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ آخر انہوں نے کہا۔ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا لشکر ہو گا اور کیس کا ہو گا۔ کہنے لگا بالکل جھوٹ۔ میں تو انہیں مدینہ میں سوتا چھوڑ کر آیا ہوں اُن کو پتہ بھی نہیں وہ بڑے آرام سے بیٹھے تھے۔ ابو سفیان اور اُس کے ساتھی یہ باتیں ابھی ہو ہی رہی تھیں۔ ہو ہی کہ اسلامی لشکر کے چند سپاہی جو پہرہ پر متعین تھے کے چند سپاہی پہرہ سلامی پہرہ داروں کے نرغہ میں وہ پہرہ دیتے ہوئے قریب پہنچ گئے اور ابو سفیان کی آواز انہوں نے سُنی اُن میں حضرت عباس بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چا اور ابو سفیان کے بڑے گہرے دوست تھے۔ اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر پر سوار تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سفر میں خچر دی تھی کہ وہ اس کو استعمال کریں۔ انہوں نے آواز سنی تو کہنے لگے ۔ ابو سفیان ! ابو سفیان نے کہا۔ عباس ! تم کہاں؟ حضرت عباس نے کہا او کمبخت ! تیرا بیڑا غرق ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر آگئے ہیں۔ اب شہر کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ اب تو چل اور چڑھ جا میرے پیچھے اور خدا کے نام پر اُن کی منتیں کر اور اپنی قوم کی معافی کے لئے درخواست کر ورنہ تباہی آجائے گی۔ چڑھ جا میرے پیچھے۔ انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور خچر کے پیچھے بٹھالیا اور دوڑائی خچر ۔ اب لشکر میں جگہ جگہ پہرے ہوتے ہیں۔ جہاں بھی یہ پہنچے پہریدار فوراً آگے آکر روکنے لگے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ کی خچر ہے اور آگے حضرت عباس بیٹھے ہیں تو کہنے لگے چلو چھوڑو۔ خیر وہ پہروں میں سے نکل کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے خیمہ کے پاس پہنچے۔