انوارالعلوم (جلد 24) — Page 263
انوار العلوم جلد 24 263 سیر روحانی (7) دیکھنا وہ عورت ہے اُس پر سختی نہ کرنا، اصرار کرنا اور زور دینا کہ تمہارے پاس خط ہے لیکن اگر پھر بھی وہ نہ مانے اور منتیں سماجتیں بھی کام نہ آئیں تو پھر تم سختی بھی کر سکتے ہو اور اگر اُسے قتل کرنا پڑے تو قتل بھی کر سکتے ہو لیکن خط نہیں جانے دینا۔ 23 چنانچہ حضرت علی وہاں پہنچ گئے۔ عورت موجود تھی وہ رونے لگ گئی اور قسمیں کھانے لگ گئی کہ کیا رض میں غدار ہوں ، دھو کے باز ہوں، آخر کیا ہے تم تلاشی لے لو چنانچہ انہوں نے ادھر اُدھر دیکھا اُس کی جیبیں ٹٹولیں، سامان دیکھا مگر خط نہ ملا۔ صحابہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے خط اس کے پاس نہیں۔ حضرت علیؓ کو جوش آگیا آپ نے کہا تم چپ رہو اور بڑے جوش سے کہا کہ خدا کی قسم ! رسول کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ چنانچہ انہوں نے اُس عورت سے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ تیرے پاس خط ہے اور خدا کی قسم ! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ پھر آپ نے تلوار نکالی اور کہا۔ یا تو سیدھی طرح خط نکال کر دیدے ورنہ یاد رکھ اگر تجھے ننگا کر کے بھی تلاشی لینی پڑی تو میں تجھے ننگا کرونگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نے سچ بولا ہے اور تو جھوٹ بول رہی ہے۔ چنانچہ وہ ڈر گئی اور جب اُسے ننگا کرنے کی دھمکی دی گئی تو اُس نے جھٹ اپنی مینڈھیاں کھو لیں اُن مینڈھیوں میں اُس نے خط رکھا ہوا تھا جو اُس نے نکال کر دے دیا۔ یہ ایک صحابی حاطب کا خط تھا اور اُس میں لکھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر آرہے ہیں پتہ نہیں چلتا کہ کدھر جا رہے ہیں لیکن اتنا بڑا لشکر مکہ کے سوا اور کہیں جاتا معلوم نہیں ہوتا اس لئے میں تم کو خبر دے رہا ہوں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط پہنچا تو آپؐ نے حاطب کو بُلوایا اور فرمایا۔ یہ خط تمہارا ہے ؟ انہوں نے کہا۔ ہاں میرا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ تم نے یہ خط کیوں لکھا تھا۔ انہوں نے کہا۔ يَا رَسُولَ اللهِ ! بات اصل میں یہ ہے کہ سارے مہاجر جو آپؐ کے ساتھ ہیں، یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔ میں مکہ میں باہر سے آکے بسا ہوں۔ میرا کوئی رشتہ دار نہیں، میر ابیٹا وہاں ہے، میری بیوی وہاں ہے، جس وقت اُن پر حملہ ہوا انہوں نے ہمارے جتنے رشتہ دار ہیں اُن کو مار ڈالنا ہے۔ سوائے اُن کے جن کے بچانے والے موجود ہونگے۔ پس چونکہ میرے بیوی بچوں کو