انوارالعلوم (جلد 24) — Page 244
انوار العلوم جلد 24 244 سیر روحانی (7) اب پھر عیسائیت غالب آگئی ہے۔ غرض اسقدر میرے دل میں مایوسی اور شبہات پیدا ہونے شروع ہوئے کہ آج شام کو میں نے کہا میرے بھائی نے ٹرنک میں کچھ کتابیں رکھی تھیں انہیں میں سے کوئی کتاب لاؤ تا کہ میں اُسے پڑھوں۔ شاید اُس میں کوئی بات ر بتائی گئی ہو۔ کہنے لگے میں نے آپ کی کتاب " دعوة الامير " نکالی اُس کتاب میں یہی مضمون ہے کہ اسلام کی تباہی کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبریں دی ہیں اور بتایا ہے کہ مسلمان اس طرح ذلیل ہو جائیں گے ، تجارتیں جاتی رہیں گی اور سب قسم کی ترقیاں مٹ جائیں گی۔ بھلا آج سے تیرہ سو سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ مسلمان کی یہ حالت ہو گی اُس وقت تو یہ حالت تھی کہ سات سو مسلمان ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مردم شماری کرو۔ مسلمانوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپؐ نے مردم شماری کرائی ہے اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں۔ کیا آپ ڈرتے ہیں کہ اب ہم تباہ ہو جائیں گے ؟ اب ہمیں کون مار سکتا ہے۔ اب یا تو اُن کی یہ شان تھی اور یا یہ کہ چالیس کروڑ یا ساٹھ کروڑ مسلمان ہیں اور اُن کی جانیں لرز رہی ہیں۔ تو یہ حالت آج سے تیرہ سو سال پہلے کون شخص بنا سکتا تھا نا ممکن تھا کہ کوئی شخص کہے کہ مسلمان ایسا کمزور ہو جائے گا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بتایا تھا وہ بات پوری ہو گئی۔ پس اے مسلمانو ! جب تم نے یہ دیکھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نا ممکن خبر پوری ہو گئی ہے تو تم کیوں یہ یقین نہیں کرتے کہ وہ دوسری خبر جو اب میں بتاتا ہوں وہ پوری ہو گی۔ پھر میں نے وہ پیشگوئیاں لکھی ہیں جو اسلام کی ترقی کے متعلق تھیں۔ اور میں نے کہا ان کو دیکھ لو اور سمجھ لو کہ اسلام پھر ترقی کرے گا۔ کہنے لگے۔ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو تسلی ہو گئی کہ واقع میں میں نے جو کچھ دیکھا تھا وہ وہی تھا جو آپ نے بتایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پہلے سے خبر دی ہوئی ہے اور جب یہ بات پوری ہو گئی جس کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ پوری ہو گی تو آپ کی یہ دوسری بات بھی ضرور پوری ہو گی اور میں نے سمجھا کہ جس شخص نے دنیا میں آکر ہماری یہ راہنمائی کی ہے اُس سے علیحدہ رہنا بالکل غلط ہے چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور احمدیت میں داخل ہو گئے۔