انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 232

انوار العلوم جلد 24 232 سیر روحانی (7) دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو جب اُسے یہ خبر پہنچ جائے کہ دو تین دن تک ہماری تازہ دم فوج اُس کی مدد کے لئے پہنچ جائے گی تو اُس کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ لڑ کر مرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ہم نے یہاں سے ہلنا نہیں۔ دو تین دن میں ہماری اور فوج آپہنچے گی ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر یہ پتہ نہ ہو کہ ہماری فوجیں کب آئیں گی تو وہ کہتی ہیں یو نہی جان کیوں ضائع کرنی ہے چلولوٹ جائیں اس طرح ان نوبت خانوں کی وجہ سے فوج بڑی مضبوط رہتی ہے۔ نوبت خانوں کی تیسری غرض تیسری غرض نوبت خانوں کی یہ ہوا کرتی تھی کہ بادشاہ کبھی کبھی لوگوں کو اپنا چہرہ دکھانے کے لئے اور اپنی باتیں سنانے کے لئے جھروکوں میں بیٹھتے تھے اور اعلان کر دیا جاتا تھا کہ بادشاہ سلامت تشریف لے آئے ہیں جس نے آنا ہے آجائے یہ دربار عام ہوتا تھا۔ اُس وقت بھی نوبت بجائی جاتی تھی اور نوبت کے بجنے سے لوگ سمجھ جاتے تھے کہ آج بادشاہ نے باہر آنا ہے۔ جو قریب ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بات کرنے کا موقع مل جائے گا، جو اُن سے بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں دیکھنے کا موقع مل جائے گا، جو اُن سے بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں ایک جھلک دیکھنے کا موقع مل جائے گا اور جو اور بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہم کوشش تو کریں گے نظر آگیا تو آگیاور نہ ہجوم ہی دیکھ لیں گے اس طرح ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے تھے۔ دلّی کے بادشاہوں نے اپنے عہدِ حکومت میں ایسا طریق رکھا ہوا تھا کہ علاوہ جھروکوں کے وہ بعض دفعہ ایسی جگہ بیٹھتے تھے کہ دریا پار کے لوگ بھی جمع ہو جاتے تھے۔ بیچ میں جمنا آتی تھی اور جمنا کے کنارے پر لوگ آکر جمع ہو جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اتنی دور سے بھی اگر ہم نے بادشاہ کو دیکھ لیا تو یہ بھی ہماری عزت افزائی ہے۔ 1911ء میں جب جارج پنجم دلّی میں آئے اور دربار لگا تو میلوں میل تک لوگ کھڑے ہوتے تھے اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ کھڑے کیوں ہیں ۔ بعض دفعہ آدھ آدھ میل پر بادشاہ کی سواری گزرتی تھی مگر لوگ کھڑے ہوتے تھے صرف اتنا