انوارالعلوم (جلد 24) — Page 215
انوار العلوم جلد 24 215 متفرق امور یہ تم نے کس طرح ہوئی ؟ کہنے لگا میں نے اُدھر فوج میں دیکھا تھا اُدھر ہوتے ہیں اور وہاں اُن کو ہزار ہزار روپے کی فی ایکڑ آمدن ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ تو میں نے یہاں تجربہ کے لئے لگائی ہے اور یہ درخت بڑے اچھے نکل رہے ہیں اب تین مہینے کو پتہ لگے گا کہ پھل کیسا نکلتا ہے۔ بہر حال وہ درخت بڑے اچھے شاندار تھے اگر پھل لگ گیا ہو گا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس تجربہ میں بجائے پچاس یا سو کی آمدن کے ہزار یا ڈیڑھ ہزار کی فی ایکڑ نکل آئے گی جتنی وہ بولیں گے۔ تو اچھے بیج کو تلاش کرنا اور ایسی چیزوں کو تلاش کرنا جو زیادہ نفع لانے والی ہوں نہایت ضروری ہوتا ہے مثلاً مکھیر ہے سارا یورپ اور امریکہ اپنے کھیتوں میں مکھیر لگاتا ہے مگر ہمارا ہندوستانی ہندوس نہیں لگاتا حالانکہ حالانکہ کھیر ۔ سے پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ بہتیرا ہم نے زمینداروں کو بتایا ہے کہ بھئی! یہ دیکھو خدا تعالیٰ نے قانون ایسا بنایا ہے، قرآن میں صاف لکھا ہوا موجود ہے تمہاری پھر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر چیز میں نر اور مادہ ہیں۔ گندم میں بھی نر مادہ ہیں۔ پھلوں میں بھی فرمادہ ہیں ان نر اور مادہ کا مادہ جو ہے اُس کو مکھی اُڑا کے جاکے دوسری جگہ پر ڈالتی ہے جیسے ہمارے ہاں شادی کر دیتے ہیں نا۔ اُن کی شادی مکھی کرتی ہے۔ مکھی ایک نر پر بیٹھتی ہے اور وہاں سے لے کر بیچ جا کے مادہ پر لگا دیتی ہے اُس کی فصل دوگنی ہو جاتی ہے۔ اگر نر کا مادہ نہ ملے تو جیسے لکڑی خاکی انڈے دیتی ہے نا۔ تو تھوڑے دیتی ہے۔ تو خاکی انڈے دیتی ہے فصل لیکن جس وقت نر اُس کو جاکے مل جائے تو وہ فصل زیادہ دیتی ہے اس لئے یورپ والے فصل کے بڑھانے کے لئے خصوصاً اُن فصلوں کے بڑھانے کے لئے جن میں نر اور مادہ کا زیادہ تعلق ہے مکھیر ضرور رکھتے ہیں۔ وہ مکھیر جاکے بیچ دوسری جگہ پر لگاتا ہے اور اس کی وجہ سے فصلیں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ تو شہد کا شہد نکلتا ہے اور اس سے آمدن الگ بڑھتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں گورنمنٹ کی طرف سے بھی اعلان ہو چکے ہیں ایک محکمہ بھی ایک دفعہ بنا تھا پری پارٹیشن (Pre Partition) کے زمانہ میں۔ لیکن پھر بھی لوگ ادھر توجہ نہیں کرتے حالانکہ اپنی قومی حالت کے درست کرنے کے لئے اور اپنے دین کی حالت کو