انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 213

انوار العلوم جلد 24 213 متفرق امور ہمارے ہاں پچاس سے ں سے سو من تک فی ایکڑ مکئی پیدا ہوتی ہے۔ اب تم اس سے اندازا یہ سمجھ لو کہ اگر چھ روپے پر بھی قیمت آجائے آجکل تو دس بارہ پر بکتی ہے لیکن اگر چھ روپیہ پر بھی قیمت آجائے تو چھ سو روپیہ کی فی ایکڑ مکئی نکل آئی۔ تو انہوں نے بیج نکال لئے ہیں ایسے جن بیجوں میں بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ میں نے ان بیجوں کے لئے خط و کتابت شروع کی کہ ہم یہاں تجربہ کریں تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے مختلف زمینوں کا حساب لگا کے کہ فلانی قسم کی زمین میں فلانا بیچ لگتا ہے فلانی قسم کا نہیں ہوتا ایک ہزار سے زیادہ قسم کا بیج نکالا ہے تم بتاؤ تمہاری زمینیں کون سی ہیں کہ ہم بیچ دیں۔ ہم تو اس پر حیران ہو گئے کہ ہم یہ ہزارواں حصہ کہاں سے نکالیں۔ ہم نے کہا یہ تو ہمارے لئے مجبوری ہے اُس نے کہا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ تم اپنا کوئی آدمی بھیجو جس کو ہم یہاں طریقہ سکھا دیں وہ جائے پھر وہاں تمہاری زمینوں کو ٹیسٹ کرے تو پھر یہاں سے بیج بھیج دیا کریں گے۔ ہم نے کہا یہ بھی ہمارے ساتھ مشکل ہے۔ انہوں نے کہا پھر یہ طریقہ ہے کہ ہم اپنا آدمی تمہارے پاس بھیجتے ہیں وہ وہاں ٹیسٹ کرے گا اس کے لئے تم ہم کو چھ ہزار ڈالر دے دو ( 18 ہزار روپیہ ) ہم نے اس کی بھی معذرت کی کہ ابھی تو ہمیں پتہ نہیں کہ کیا ہو جائے گا یہ بھی مشکل ہے۔ آخر ایک فرم نے کہا تم دینی خدمت کرتے ہو ہم تم کو سوا من اندازہ لگا کے تمہارے ملک کی زمین کا بیج بھیج دیں گے چنانچہ اب وہ بیچ آرہا ہے اگر وہ آگیا تو ہم اُس کا تجربہ کریں گے ممکن ہے وہ ہماری زمینوں کے ساتھ فٹ کرے یا نہ کرے۔ میں ا تو نے کہا دوسرا پیچ ہم کو بھیج دو۔ انہوں نے کہا وہ تو اب ہم نے چھوڑ ہی دیا ہے پچاس من یا سو من جب پیدا ہوتی ہے تو ہم نے پندرہ بیس من کیوں پیدا کرنی ہے۔ ہماری عقل ماری ہوئی ہے تو ہم نے وہ بیچ چھوڑ دیئے ہیں یہ نئے بیج شروع کر دئے ہیں۔ تو دیکھو اس طریقے پر کتنی آمد نیں بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح گنا ہے۔ گنا بہت زیادہ آمدن والی چیز ہے۔ ماریشس وغیرہ میں تین سو من فی ایکڑ گڑ نکلتا ہے۔ سرگودھا میں بعض نہایت اچھے ٹکڑوں میں ایک سو پچاس من تک گڑ بعضوں نے نکالا ہے لیکن ہماری عام اوسط جو ہے وہ تیس چالیس من تک ہے تو آب