انوارالعلوم (جلد 24) — Page 209
انوار العلوم جلد 24 209 متفرق امور اس سے ڈھائی گنے اور آدمی موجود ہیں جو اس چندے میں شامل نہیں ۔ اگر یہ سارے کے سارے شامل ہو جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جو بعض پر بہت زیادہ بوجھ ہے وہ اگر ہم کم کریں گے تو اس کے نتیجہ میں کمی نہیں آئے گی بلکہ پھر بھی چندہ میں زیادتی ہوتی چلی جائے گی۔ اب آپ لوگوں میں سے ہر شخص کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ چاہے دو دو مل کر ، تین تین مل کر کم سے کم رقم جو چندہ تحریک جدید کی ہے اس کا دینا اپنے اوپر واجب کر لیویں اور کوئی جماعت ایسی نہ رہے جس کے تمام افراد شامل نہ ہو جائیں۔ مثلاً بچوں کی طرف سے بھی بے شک پیسہ پیسہ دو پر ہر بچے کا نام لکھاؤ ، ہر بیوی کا نام لکھاؤ اور پھر جو مل کے ٹوٹل ہو جائے اگر پانچ نہیں بنتا تو پھر کسی اور خاندان کو ساتھ شامل کر لو اور اُن کو ملا کے پانچ کر لو یا پانچ سے زیادہ کر لو۔ اسی طرح جو غیر ملکی جماعتیں ہیں اُن کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر اپنے بوجھ اُٹھانے کے لئے خود تیار ہوں تاکہ اُن کے روپیہ سے دوسری جگہ مشن کھولے جا سکیں“۔ (الفضل 4 مئی 1960ء) زمیندار احباب پیداوار جماعت پاکستان کو اپنی آمد بڑھانے کی بھی وو بڑھانے کی کوشش کریں کوشش کرنی چاہئے ہمارے ملک کا زمیندار یقیناً اپنی آمد تین چار گنے بڑھا سکتا ہے۔ جاپان میں ہماری گورنمنٹ نے ایک وفد بھیجا تھا جس نے آکر یہ رپورٹ کی کہ جاپان کی اوسط زمین تین ایکڑ فی خاندان ہے۔ اور اُن کی اوسط آمدن چھ ہزار روپیہ ہے گویا دو ہزار روپیہ فی ایکٹر جاپان میں آمد پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری دوہزار چھوڑ دو سو بھی نہیں ہے سو بھی نہیں ہے بلکہ عام طور پر تو پچیس تیس روپے فی ایکڑ نکلتی ہے۔ اگر اُس کی مزدوری اس میں شامل بھی کر لی جائے تو ساٹھ ستر اسی روپے آجاتی ہے۔ مربع والوں کی بیشک سو سوا سو بلکہ ڈیڑھ دو سو تک بھی بعض کی آمد ہو جاتی ہے لیکن کجا دو ہزار اور کجا دو سو۔ اور کجا اوسط پچیس تیس ہونا اور کجا اوسط دو ہزار کی۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک محنت کی عادت نہیں۔ ہمارا آدمی کم سے کم چیز پر جس سے اُس کی روٹی چل سکے خوش ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ