انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 199

انوار العلوم جلد 24 199 متفرق امور آتے تھے تب بھی خرچ پورا نہیں ہوتا تھا لیکن چالیس فیصدی کم آنے کے تو یہ معنے ہیں کہ سب مشن بند کر دیئے جائیں اور مشنریوں کو خالی بٹھا رکھا جائے۔ یہ نتیجہ محض اس بات کا ہے کہ باوجود میرے کہنے کے کہ یہ تحریک صرف چند سالوں کے لئے نہیں لوگ اسے وقتی تحریک سمجھتے رہے۔ میر اتجربہ ہے کہ باوجود اس کے کہ لوگوں کو سمجھاتے چلے جاؤ کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن قادیان میں میں کہہ رہا تھا کہ دیکھو تم نے قادیان سے نکلنا ہے تو سارے ہنس کے کہتے تھے ہمیں یو نہی جوش دلا رہے ہیں مگر قادیان سے پھر نکل آئے۔ پھر میں نے کہنا شروع کیا دیکھو ابھی تم نے یہاں زیادہ دیر رہنا ہے لیکن یہیں ہمارے آدمی لوگوں کو کہتے پھرے کہ میاں کیا مکان بنانا ہے اب تو ہم قادیان جانے والے ہیں۔ یہاں بے چارے ایک دوست تھے جو فوت ہو گئے وہ جب کوئی مکان بنوانے لگتا تو اُسے جاکے کہتے کیا کر رہے ہو مارچ میں تو ہم نے وہاں جانا ہے اب کے گندم وہاں کاٹنی ہے ۔ اس عرصہ میں وہ آپ فوت ہو گئے اور سات سال کے بعد یہیں دفن ہوئے۔ تو وقت پر سمجھاتے رہو دلوں پر کچھ ایسی گرہ پڑ جاتی ہے کہ سمجھنے میں ہی نہیں آتے ۔ میں جماعت کے لوگوں کو بار بار کہتا رہا کہ تمہیں اسلام کے لئے دائمی طور پر قربانیاں کرنی پڑیں گی مگر اس کو سنتے ہوئے بھی لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تو ہوا مذاق۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف چند سالوں کی بات ہے اور اب جبکہ میں نے کھول کر بتا دیا ہے کہ یہ تحریک ہمیشہ کے لئے ہے تو بس خاموش کھڑے ہیں وعدہ ان کے منہ سے نہیں نکلتا لیکن سوچ لو اس کا نتیجہ کیسا خطر ناک ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو ہمیں اپنے سارے مشن بند کرنے پڑیں گے اور کہنا پڑے گا کہ جماعت چندہ نہیں دیتی مگر کیا ایسی صورت میں ہم دُنیا کو اپنا منہ دکھانے کے قابل رہیں گے ؟ پس اس غفلت کو دور کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو ہمار افرض ہے کہ ہم اپنے اس کام کو بڑھاتے چلے جائیں اور اتنا بڑھائیں کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی تبلیغ پہنچ جائے یہ چیز ہے جو ہم کو ساری دُنیا پر ممتاز کرتی ہے۔