انوارالعلوم (جلد 24) — Page 76
انوار العلوم جلد 24 76 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب معاملات عرب کے متعلق اس موقع پر امام جماعت احمدیہ کا مندرجہ ذیل حوالہ پیش کر نا یقینا اس احمد یہ پالیسی کو امام جماعت احمدیہ کی غیرت واقع کر دیتا ہے جو مسلمانوں سے متعلق کے احمد یہ جماعت نے اختیار کر رکھی تھی۔ آپ ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:۔ ” آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے۔ مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ انگریز بعض عرب رؤسا کو مالی مدد دے کر انہیں اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں۔ یہ شور جب زیادہ بلند ہوا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم عرب رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔ مسلمان اس پر خوش ہو گئے کہ چلو خبر کی تردید ہو گئی لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب رؤساء کو مالی مدد نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔ چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔ جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہو مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین کو اس اس قدر مالی مدد ملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں ان کا خط آیا۔ وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے) کہ یہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلا یا جائے۔ ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔ پس ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔ جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اس