انوارالعلوم (جلد 24) — Page 74
انوار العلوم جلد 24 74 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب میاں محمد امین خان صاحب (12-2) میاں محمد امین صاحب قادیانی مبلغ مبلغ بخارا کا ایک خط کے خط کا جو حوالہ اُنہوں نے دیا ہے وہ روس اور برطانیہ کے باہمی تعلقات کے متعلق ہے اس پر مسلمانوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟ وہ یہ لکھتے ہیں کہ روس اور انگریزوں کے تعلقات کے لحاظ سے میں انگریزی فوائد کو روسی فوائد پر ترجیح دیتا تھا۔ یہ بڑی اچھی بات ہے اس پر کیا اعتراض ہے ؟ اور اس سے مسلمانوں کو کیا نقصان پہنچ سکتا تھا؟ وہ یہ ثابت کریں کہ کسی جنگ میں انگریزوں نے ابتدا کی ہو ؟ خود کسی اسلامی ملک پر حملہ کیا ہو ؟ اور پھر بھی بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی تائید کی ہو یا احمد یہ جماعت نے انگریزوں کی تائید کی ہو۔ جب انگریزوں نے عرب میں رسوخ بڑھانا چاہا تو جماعت احمد یہ نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ جب انگریزوں نے شریف حسین والی مکہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اس معاہدہ کو توڑا اور عرب کے متحد کرنے میں اس کی مدد نہ کی تو اس کے خلاف امام جماعت احمد یہ نے آواز بلند کی جس سے صاف ثابت ہے کہ جب کبھی انگریز نے مسلمان کے ساتھ دھو کہ بازی کی اور اس کے حقوق میں دخل اندازی کی تو جماعت احمد یہ نے اس کے خلاف احتجاج کیا لیکن جب کسی مسلمان حکومت نے آپ ہی آپ غیر قوموں سے لڑائی شروع کر دی جیسا کہ ترکی نے کیا تھا تو احمدی جماعت نے ہندوستان کی تمام دوسری اسلامی جماعتوں سمیت اس اسلامی حکومت کے اس فعل کو بُرا منایا۔ چنانچہ عراق کے فتح کرنے میں ہندوستانی فوجوں کا بہت کچھ دخل تھا اور اس میں ایک بڑی تعداد مسلمان فوجیوں کی تھی۔ ممکن ہے کہ احمدی چالیس پچاس یا سو ڈیڑھ سو ہوں لیکن ہزاروں ہزار دیو بندی تھے یا بریلوی تھے یا سنی تھے یا اہلحدیث تھے۔ اسی طرح اہلحدیث کے لیڈر سلطان ابن سعود انگریزوں کی پشت پر ریاض میں بر سر حکومت تھے۔ انہوں نے ایک گولی بھی انگریز کے خلاف نہیں چلائی بلکہ فورا ترکی کے علاقہ پر حملہ کر کے اس کو اپنے قبضہ میں کرنا شروع کر دیا۔ ادھر مکہ میں شریف حسین اور فلسطین اور شام اور لبنان کے مسلمانوں نے فورا ہی ترکی سے بغاوت کا اعلان کر دیا اور انگریزوں سے مل کر ان کے ساتھ لڑائی کرنی شروع کر دی۔