انوارالعلوم (جلد 24) — Page 69
انوار العلوم جلد 24 69 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مسئلہ “ کا جواب منسوخ نہیں کئے گئے ہیں۔ نہ مسلمانوں کو سب احکام شریعت کے اتباع سے روکا جاتا ہے، نہ ان کو اپنی شخصی اور اجتماعی زندگی میں شریعت اسلامی کے خلاف عمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے ملک کو دارالحرب ٹھہرانا اور ان رخصتوں کو نافذ کرنا جو محض دارالحرب کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر دی گئی ہیں اصول قانون اسلامی کے قطعاً خلاف ہے اور نہایت خطرناک بھی “۔ یہی وہ بات تھی جو بانی سلسلہ احمد یہ کہتے تھے کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی مسیح آسمان سے نازل ہو گا جو تمام نا مسلموں کو مارنے کی مہم جاری کر دے گا اور جو شخص اسلام کی تسلیم نہ کرے گا اُسے قتل کر دے گا۔ ایک غلط عقیدہ ہے۔ ایسا جہاد اسلام میں جائز نہیں ہے۔ آنے والا مسیح صرف دلائل اور براہین سے لوگوں کو اسلام کی طرف لائے گا اور بلا وجہ لوگوں سے جنگ کا اعلان نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ حوالہ جس کی ایک سطر مودودی صاحب نے لکھ دی ہے مکمل یوں ہے :۔ میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قریشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہو گا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں میں اپنے نفس کے لئے اُس مسیح موعود کا ادعا کرتا ہوں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہو گا اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور