انوارالعلوم (جلد 24) — Page 66
انوار العلوم جلد 24 66 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب اور اس وجہ سے ہٹایا جائے گا کہ وہ انگلستان اور امریکہ سے بلا وجہ الجھنے کا قائل نہیں غیر مسلموں سے بھی نیک سلوک قائم رکھنا چاہتا ہے تو اس کے ہٹانے سے لازماً انگلستان اور امریکہ کے لوگ اور وہاں کی حکومتیں یہ سمجھیں گی کہ پاکستان کے عوام الناس اور پاکستان کی حکومت کسی ایسے شخص کو بر سر اقتدار نہیں آنے دیں گے جو کہ انگلستان اور امریکہ سے صلح رکھنے کی تائید میں ہو یا غیر مذاہب والوں سے صلح رکھنا چاہتا ہو۔ مولانا! بتائیے یہ کوڑ مغزی ہو گی یا عقلمندی اور آپ کے اس شور و شر کے نتیجہ میں ظفر اللہ خاں کو نہ ہٹا کر ہمارے مدبر ہمارے مدبرین عقلمندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ رہے ہیں یا کوڑ مغزی کا ثبوت دے دے رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کی تبلیغ اسلام (12) پھر مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی کی نگاہ میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدی تو تبلیغ اسلام کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں چاہئے۔ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ ان کی تبلیغ تبلیغ نہیں تھی بلکہ انگریزوں کو خوش کرنے کا ایک طریق تھا اور اس کی دلیل میں اُنہوں نے بانی سلسلہ احمد یہ کا یہ حوالہ تبلیغ رسالت سے پیش کیا ہے کہ :- جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے “۔ 129 دوسری دلیل اُنہوں نے ایک اٹیلین انجینئر کی کتاب سے پیش کی ہے کہ صاحبزادہ عبدا عبد اللطیف صاحب جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اس لئے ان کو شہید کیا گیا۔ تیسری دلیل کے طور پر انہوں نے ”الفضل“ کا ایک حوالہ پیش کیا ہے جس میں امان افغان 3 مارچ 1925ء کی عبارت درج کی گئی ہے اور وہ بقول مودودی صاحب کے یہ ہے:۔ 66 افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان