انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 542

انوار العلوم جلد 23 542 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔ شامل ہونے والے خدام کی کیا تعداد تھی ؟" اس پر دفتر کی طرف سے جو اعدادو شمار پیش کئے گئے وہ یہ تھے: سال گذشته حضور نے فرمایا:- 876 موجودہ سال 1062 " اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال پونے دو سو خدام زیادہ آئے ہیں لیکن جہاں تک میرا تاثر ہے دفتر مرکز یہ اعداد و شمار کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔ حالانکہ اس سے کئی نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔ ہر دفعہ سوال کرنے پر ہانپتے کانپتے اور لرزتے ہوئے اعدادو شمار پیش کئے جاتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کے کام کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کبڈی اور فٹ بال کے میچوں کو دی جاتی ہے ورنہ تمام اعداد و شمار ہر وقت اپنے پاس رکھے جاتے اور منتظمین سوال کرنے پر دلیری سے جواب دیتے۔ اور پھر صرف ایک سال کے ہی نہیں دفتر کے پاس ہر سال کاریکارڈ ہونا چاہئے یعنی انہیں سوال کرنے پر فوری طور پر بتانا چاہئے کہ 1952ء میں کتنے خدام آئے، 1951ء میں کتنے آئے، 1950ء میں کتنے آئے، 1949ء میں کتنے آئے ، 1948ء میں کتنے آئے۔ اعداد و شمار ہی کسی قوم کا اصل ٹمپریچر ہیں۔ آجکل بیماریوں کی تشخیص ٹمپریچر دیکھ کر کی جاتی ہے۔ جب ٹمپریچر معلوم ہو جائے تو انسان کو یہ تسلی ہو جاتی ہے کہ مرض کی یہ شکل ہے۔ ٹمپریچر ہی بتاتا ہے کہ مریض کو ٹائیفائڈ ہے یا ملیریا ہے۔ پھر ٹمپریچر ہی بتاتا ہے کہ مرض خراب ہو رہا ہے یا مریض شفا کی طرف جا رہا ہے۔ پھر ٹمپریچر ہی بتاتا ہے کہ سوزش یا خرابی زہریلی طرف جارہی ہے یا شفاء کی طرف جارہی ہے۔ غرض اعداد و شمار نہایت ہی اہم چیز ہیں جس کی طرف مجلس خدام الاحمدیہ نے کبھی توجہ نہیں کی اور مجھے ہر سال ہی اسے تنبیہ کرنی پڑتی ہے۔ حالانکہ ان کے پاس ہر سال کا نہیں ایک ایک دن کا بلکہ ہر صبح و شام کے اعداد و شمار کاریکارڈ ہونا چاہئے کیونکہ اعداد و شمار ہی تفصیلی ٹمپریچر ہیں کسی قوم یا جماعت کی صحت تندرستی کا۔ اس کے بغیر کسی قوم کی مرض یا صحت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔